جواب:

سب سے پہلے سمجھیے کہ حد مقرر کرنے کی کیا وجہ ہوئی ؟وجہ یہ ہے تاکہ مرتکب کو متنبہ کیا جائے اور سزا دیا جائے اس طرح کے آئیندہ کے لیے عبرت کا ذریعہ بنے۔
چوری کی سزا ہاتھ اور پیر کاٹنا کیوں مقرر ہوا ؟جب کوئی چور چوری کرتا ہے تو اپنے آپ کو بچانے کے لیے بھاگتا ہے اور بھاگنے میں قوت ہاتھ اور پیر سے ہوتی ہے .جب چور پہلی بار چوری کرے تو ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے تاکہ قوت میں کمی آجائے پھر دوبارہ اگر چوری کیا تو مخالف پیر کاٹنے کا حکم ہے تاکہ بآسانی پکڑ میں آسکے۔
اور زانی کی شرمگاہ زنا میں اس لیے کاٹے نہیں جاتی کہ وہ تو سارے بدن کے ساتھ زنا کرتا ہے اور تمام بدن سے لذت لیتا ہے اور قضائے شہوت کرتا ہے اور زنا اکثر زانیہ کی مرضی سے ہوتا ہے وہ ڈھونڈے جانے سے نہیں ڈرتا اس بنا پر زنا میں غیر شادی شدہ کے لیے کوڑے اور شادی شدہ کے لیے سنگسار مقرر کیا گیا ہے نیز زانی کی شرمگاہ کاٹنے سے بے ستری لازم آتی ہے اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے جب زانی تمام بدن سے زنا کرتا ہے تو سزا ایک ہی کو کیوں دی جائے ؟یہ عدل کے خلاف ہے لہذا تمام جسم کے لیے سزا مقرر ہوا۔