سوال:
قرآن کریم کی ایک آیت کا ترجمہ ہے کہو کہ ہم معافی مانگتے ہیں ہم معاف کریں گے تمہارے گناہ اور زیادہ نیکی کرنے والوں کے اس آیت کے اندر بتلایا گیا ہے کہ گناہگاروں کے گناہ معاف ہوں گے اس سے اور زیادہ گناہ کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے کیونکہ جب معافی کا اعلان ہو گیا تو مجرم کو گناہ کرنے میں پیچھے نہیں ہٹے گا اور کیا یہ عدل کی خلاف نہیں؟ عدل کا تقاضا یہ ہے کہ جو جس طرح جرم کرے اس کے مطابق سزا دی جائے؟
جواب:
اللہ کی صفتوں میں سے یہ دو صفت(attributes) ہیں ( ١) عدل (٢). رحم عدل کہتے ہیں ہر چیز کو اس کے ٹھکانے پر رکھنا رحم کا معنی ہے کسی حالت پر ترس کھانا یا بھلائی کا ارادہ کرنا اور ان صفت کا یہ مطلب صرف ہمارے نزدیک نہیں بلکہ دوسرے مذہب کی کتابوں میں بھی ہے مثلاً دیکھی( ستیارتھ پرکاش صفحہ 235 سملاس7 نمبر 19) پس معترض صاحب بتلائیے ایک شخص جو عذاب کو دیکھا نہیں ہو وہ اخلاص کے ساتھ خدا کے سامنے گڑگڑاتا ہے توبہ کرتا ہے تو عدل جس کا معنی ہر چیز کو اس کے ٹھکانے پر رکھنا اس کا تقاضہ ہے توبہ کے لیے بھی کوئی محل مقرر کرے جب ہر ایک فعل کے لیے محل مقرر ہے تو توبہ کے لیے بھی محل مقرر ضرور ہوگا اور توبہ کا محل معافی ہے اور یہ عین عدل اور رحم ہے بلکہ توبہ قبول نہ ہونا گناہوں کا معاف نہ ہونا سراسر ظلم اور خلاف عدل ہے۔
کیونکہ اب توبہ کے لیے کوئی محل مقرر نہیں رہا۔
اصل بات ہے معترض صاحب شاید حقوق اللہ اور حق العباس سے واقف نہیں ہیں بس سمجھیے ان دونوں میں بڑا فرق ہے حقوق العباد کی صورت میں توبہ قابل قبول نہیں ہے جب تک جس کا حق اس پر ہے وہ یا تو معاف کر دے یا یہ شخص ادا کر دے۔
کیونکہ اس میں عالم کا نظام بگڑتا ہے اور حقوق اللہ کی صورت میں توبہ قبول ہوتی ہے بشرطیکہ سچے دل اور خالص نیت کے ساتھ اللہ کے عذاب سے اور انجام کی برائی کے خوف سے توبہ کرے اور یہ بھی شرط ہے کہ آئیندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کیا ہو ان تمام شرائط کے ساتھ گناہ سے معافی کی امید ہے۔