جواب :
جہاد اسلام کی حفاظت کے لیے شروع ہوا ہے نہ کہ اشاعت اسلام کے لیے۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے لوگ اس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی میں پڑے ہوتے ہیں۔ جہاد کی مثال آپریشن کی سی ہے کیونکہ خراب مادے(Bad substances) دو قسم کے ہوتے ہیں:
١) متعدی(infectious )یعنی جس کی وجہ سے جسم کے دوسرے اعضاء اور جسم کے دوسرے حصے بھی خراب ہو جاتے ہیں
٢) جو غیر متعدی (non-infectious)
ہوتے ہیں یعنی اس کی وجہ سے دوسرے اعضاء یا بدن کے کوئی حصہ خراب نہیں ہوتا ۔
جو غیر متعدی مادہ ہوتا ہے اسے تو دوائی مرہم وغیرہ لگا کر دبا لیا جاتا ہے لیکن جو متعدی مادہ ہوتا ہے اس کے لیے آپریشن کیا جاتا ہے اس کو چیر کر نکال لیا جاتا ہے۔
اسی طرح دشمنان اسلام دو طرح کے ہیں بعض تو جن سے صلح مناسب ہوتی ہے وہ صلح کرے کہ مسلمانوں کو ستانا چھوڑ دیتے ہیں اور بعض ایسے مفسد ہوتے ہیں کہ صلح پر آمادہ نہیں ہوتے وہ ہمیشہ دشمنی کی وجہ سے تکلیف پہنچانے میں لگے رہتے ہیں یہ مادہ متعدی کی مانند ہیں ان کے واسطے آپریشن کی ضرورت ہے اسی کا نام جہاد ہے ۔
پس جہاد سے لوگوں کو مسلمان بنانا مقصود نہیں بلکہ مسلمانوں کی حفاظت مقصود ہے۔