سوال:

سورۂ مائدہ میں ہے والمحصنت من النساء الا ما ملكت ايمانكم
ترجمہ۔ اور وہ عورتیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں وہ حرام ہیں سوائے ان کے جو تمہاری ملکیت میں ہوں۔
جو مذہب اس طرح صریح طریقے پر زنا کا حکم کرے اس کو پاکیزہ مذہب کیسے کہا جا سکتا ہے ؟

جواب:

معترض صاحب عناد کی بنا پر قرآن کریم کے الفاظ میں غور نہیں کیے۔ قران پاک میں ہے ماملکت ایمانکم یعنی وہ عورتیں جس کے تم مالک ہو جاؤ اور ظاہر ہے کہ مسلمان جب کافروں کی عورتوں کے مالک ہو جاتے ہیں وہ عورتیں کافروں کے نکاح سے نکل جاتی ہیں ۔تو شریعت کا حکم ہوا کہ وہ عورتیں ان مسلمانوں کے لیے بیویوں کے درجے میں ہیں لہذا اس کو زنا نہیں کہہ سکتے ۔زنا اس کو کہتے ہیں کہ ایسی اجنبی عورت سے جماع کرے جو نہ اس کی حقیقی ملکیت میں ہو، نہ حکمی ملکیت میں ہو اور شریعت اسلام میں یہ صورت جائز نہیں ہے۔
معترض صاحب اگر سناتنی ہیں تو اپنی کتاب میں نیوگ کے عمل کا بھی مطالعہ کر لیں کہ ایک عورت اولاد کے حصول کے لیے شوہر کے ہوتے ہوئے دوسرے آدمی کے ساتھ بھی جماع کرا سکتی ہے واہ یہ کیا ہی اچھی بات ہے۔

اسی طرح بشن بھگوان کے نزدیک اپنی بیٹی اور دیگر محرم عورتوں کے ساتھ جماع جائز ہے اب ان پر کوئی اعتراض نہیں کرتا(سوط اللہ الجبار جلد 1 صفحہ 29: 30)۔