عیسائی قرآن پاک کے بارے میں تو مختلف اعتراضات کرتے ہیں لیکن اپنے گھر کی خبر نہیں لیتے درج ذیل مضمون میں ہم بائبل کی تحریف کے متعلق بعض دلائل پیش کرتے ہیں اگر تفصیل دیکھنی ہے تو مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمہ اللہ کی کتاب (اعجاز عیسوی) اور (بائبل سے قرآن تک) ملاحظہ فرمائیں۔
تورات میں تحریف واقع ہو چکی ہے قران کریم میں بھی اس کا تذکرہ ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے يكتبون الكتاب بايديهم ثم يقولون هذا من عند الله وما هو من عند الله( پارہ ٢ رکوع ٥) ترجمہ. وہ(یہودی) اپنے ہاتھوں سے کتاب (گھڑی ہوئی تورات) لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔
اور دوسرے مقام پر ارشاد ہے يحرفون الكلم عن مواضعه (پارہ ٦ رکوع ٣ )
ترجمہ وہ اللہ کی باتوں میں تحریف کر کے ان کو جگہ سے ہٹا دیتے ہیں۔
یہ تو دلائل ہوئے قرآن کریم کے اور خود محقق پادری لوگ بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ تورات میں تحریف واقع ہوئی ہے چنانچہ پادری والشس فرماتے ہیں کہ اسقوف بٹلر صاحب نے کہا کہ انگلستان میں ایک بھی فاضل ایسا نہیں جو پاک فرشتوں کے الہام کا قائل ہو (قربت الہی صفحہ ٥٩بحوالہ نوید جاوید صفحہ 170)
امریکی مشن کے پراٹسٹنٹ پادری صاحبان جن میں خصوصاً یہ نام ہیں (پادری ای راس مس آرسائمیس،گروشش،لیکلرک، پفاپف وغیرہ) ان کا تورات و انجیل کے الہام کے متعلق عقیدہ ہے کہ بائبل میں خدا کا کلام ہے لیکن ساری بائبل خدا کلام نہیں اور ان پادریوں نے اس کو چھپوا کر تمام ہندوستان میں پھیلایا تھا (نور افشاں لاحیانہ مطبوعہ 25 جولائی 1978 عیسوی، امریکی مشن پریس باہتمام پادری کیلسو صاحب نمبر 30 جلد ٦ صفحہ 238 بحوالہ نوید جاوید185)
لہذا تورات قرآن پاک کے اعتبار سے بھی اور خود پادریوں کے اعتبار سے بھی تحریف شدہ(Distorted) ہے۔