اسپینگلر لکھتا ہے کہ:
جب حضرت عیسی علیہ السلام کے دوست اور شاگرد بوڑھے ہو گئے اور یروشلم میں اس جماعت کے صدر آپ کا بھائی تھا تو انہوں نے ان واقعات و روایات کو جو عام طور پر لوگوں کے درمیان رائج تھے مرتب کر کے آپ کی سوانح عمری تصنیف کی یہی انجیل ہے (زوال مغرب جلد 2 صفحہ 214 بحوالہ معارف القرآن جلد 4 صفحہ 29) موسیورینان لکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ ابتداء کی ڈیڑھ سو سال میں اناجیل کو کوئی مستند حیثیت حاصل نہیں تھی ان میں اضافے ہوتے تھے یا مختلف انداز میں ترتیب دیے جاتے تھے (حیات مسیح صفحہ نمبر 12 )یہی مؤرخ یوحنا کے انجیل کے متعلق لکھتا ہے سینٹ پال کا سابقہ ڈین ڈاکٹر(w.r.inge) ڈبلیو آر انجے اپنی کتاب the foll of the idol میں لکھتا ہے کہ بہت کم علماء ایسے ہوں گے جو اس بات میں اختلاف کرتے ہوں کہ انجیل چہارم ( یوحنا )ایشیاۓ کوچک کا کسی گمنام تصوف پسند نے سنہ 95 عیسوی تا 120 عیسوی کے درمیان لکھا تھا متی اور یوحنا کا ذکر کرنے کے بعد موسیورینان لکھتا ہے کہ اگر عیسی علیہ السلام نے ویسا ہی کہا تھا جیسے کہ متی میں لکھا ہے تو یقیناً وہ یوحنا کے بیان کے مطابق نہیں کر سکتا تھا۔ یعنی متی اور یوحنا کے اسلوب و انداز میں اتنا واضح فرق ہے کہ ایک شخص ایسی دو متضاد باتیں کر نہیں سکتا اسی طرح ڈاکٹر جوڈ(good) اپنی کتاب(god and evil) میں لکھتا ہے کہ اناجیل کی باہمی تضاد نے مجھے پریشان کر دیا ہے۔
معلوم ہوا کہ اناجیل بھی کوئی ایسی نہیں رہی جیسا کہ منزل من السماء تھی۔