جواب :
اس کا جواب ایک مثال سے سمجھیے ایک شخص ہے جو گورنمنٹ(Govt) کے شاہی اقتدار (Imperial power)کو مانتا ہے مگر ہمیشہ قانون کے خلاف کام کرتا ہے چوری ،جوا، بدتمیزی وغیرہ میں شامل رہتا ہے۔ چونکہ ایسا شخص گورنمنٹ کے اقتدار کو تسلیم کرتا ہے تو اس کو بغاوت کی سزا نہیں ہوگی بلکہ متعین سزا پا کر دوبارہ گورنمنٹ کے عام رعایا میں شامل ہو جائے گا۔ لیکن ایک وہ ہے جو انتہائی مہذب اور بااخلاق اور کبھی بھی گورنمنٹ کے حکم کے خلاف کرتا ہی نہیں۔ لیکن گورنمنٹ کے شاہانہ اقتدار۔( Imperial power)کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کو بغاوت کی سزا ہوگی اس کو ملک بدر (Banished country)کیا جائے گا یا پھانسی میں چڑھا دیا جائے گا اسی طرح اسلامی قانون بھی ہے کہ جس کے عقائد اچھے نہیں اگرچہ جتنے بھی اچھے کام کر لے تو بارگاہ خداوندی میں کبھی بھی قبول نہیں ہوگا. لیکن ایک شخص کے عقائد اچھے ہیں لیکن لازمی عبادت انجام نہیں دیتا ۔تو اس کے لیے مقررہ سزا ہوگی اور وہ مقررہ سزا پا کر جنت میں داخل ہو جائے گا جس طرح بادشاہ کے سامنے اس شخص کو جو اس کے اقتدار کو تسلیم نہیں کرتا پھانسی دینے پر کسی کو اشکال نہیں ہوتا لہذا یہاں بھی اشکال نہیں ہونا چاہیے۔