پہلے اسلام کا حکم سمجھ لو کہ جو جانور طبعی(naturally) طور پر موذی(harmful) ہوں اور تکلیف پہنچانانے میں عموماً ابتداء کرتے ہوں انہیں قتل کرنا ہر حال میں جائز ہے اور جو جانور تکلیف پہنچانے میں ابتداء نہیں کرتے اگر وہ حملہ کریں تو انہیں قتل کرنا جائز ہے خلاصہ یہ ہے کہ ان جانوروں کو ایذاء(cruelty) کی وجہ سے قتل کرنا جائز قرار دیا گیا ہے۔ رہی بات سائل کے خود کی کبھی تو وہ بکری کا بکری مرغی کا مرغی نگل جائے اب جن جانوروں کو خود کھاتے ہیں ان پر تو رحم نہیں آتا اور جن کو نہیں کھاتے ان پر رحم دکھانے لگتے ہیں الغرض اسلام نے جو قتل کا حکم دیا ہے وہ تکلیف سے بچنے کے لیے ہے۔