جواب :

سود کی صورت زیادہ تر یہی ہوتی ہے۔جو قرض لیا ہے مقدار قرض سے زیادہ ادا کرتا ہے یا پھر اگر وقت پر ادا نہ کرے تو قرض کا دو چند سہ چند سود ادا کرتا ہے ۔
اب اس صورت میں عام طور پر قرض تو لے لیتے ہیں لیکن ادا کر نہیں پاتے اور جھگڑے کا غالب گمان پیدا ہوتا ہے اور یہ بھی ہے کہ جب مال بڑھانے کا یہ طریقہ ہو جائے گا تو اس کی وجہ سے کھیتی اور تمام صنعتیں جیسے بڑھئی ،درزی وغیرہ ختم ہو جائیں گی۔ اس لیے اس کو حرام قرار دیا گیا الغرض اسلام کی تعلیم میں اول نظر اصلاح معاشرہ ہے کہ معاشرہ میں ایسی باتیں پیدا نہ ہوں جو جھگڑے اور نقصان کا باعث ہو ۔
اس بنا پر چونکہ سود میں بھی جو قرض لیتا ہے وہ سود ادا کر کے تھک جاتا ہے ایک فرد کا نقصان ہے اس کو حرام قرار دیا گیا۔