جواب :
اگر آپ مال کے بڑھنے کی حقیقت پر غور و فکر کیے ہوتے تو یہ شبہ نہ ہوتا۔
چند مثالوں کے ذریعے آپ سمجھیے۔
١) یہ ضرور نہیں کہ آپ کا مال دو چند ہو جائے لیکن مال کے جس مقدار میں ایک سامان خریدنا تھا اس مقدار میں دو سامان مل گئے یا جہاں جتنا خرچ ہونا تھا وہاں آدھا مال خرچ ہوا۔ مثلاً ایک گھڑی خریدنی تھی جس کی قیمت ایک ہزار روپیہ ہے لیکن ایک ہزار روپیہ میں دو گھڑی مل گئے۔ اسی طرح میڈیکل میں 20 ہزار خرچ ہونے تھے لیکن کسی وجہ سے 10 ہزار خرچ ہوئے لیکن 20ہزار کے علاج ہوئے ۔ تو کیا یہ برکت نہیں ہے؟ جہاں خرچ 20 ہزار ہونا تھا وہاں 10 ہزار ہو رہا ہے .
٢) اسی طرح ایک وہ شخص ہے جس کے سارے مال اس کے کام آتے ہیں اور ایک وہ شخص ہے جس کے مال پر کبھی ڈاکہ پڑ گیا ،کبھی حکومت کو دینی پڑی، کبھی میڈیکل میں خرچ ہو گیا تو بہتر کون ہے ؟ یقیناً جس کا مال مکمل اس کے کام آیا وہی بہتر ہے۔
تو معاملہ زکوۃ کا ایسا ہی ہوتا ہے اللہ اس کے مال کو ہلاکت سے محفوظ کر لیتے ہیں۔ اور یہ بات مشاہدہ کی ہے کہ دو شخص برابر آمدنی کرتے ہیں لیکن ان میں سے ایک زکوۃ ادا کرتا ہے اور چین و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے لیکن ایک زکوۃ ادا نہیں کرتا تو وہ بے چینی میں زندگی گزارتا ہے کبھی مال ادھر خرچ ہوا ہے کبھی بیماری میں کبھی اور کسی جگہ ۔
غرض اللہ تعالی جس قدر لیتے ہیں اس سے زیادہ دیتے ہیں البتہ دینے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے اور جو بھی لیتے ہیں وہ اپنے لیے نہیں لیتے بلکہ وہ بھی ہمارے لیے ہی ہے۔