اعتراض:

 معراج کا سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے مختصر سے وقت میں کیسے مکمل کر لیے ؟جب کہ صبح بھی نہ ہونے پائی تھی؟ لہذا یہ ناممکن باتوں میں سے ہے۔

جواب:

 (1) زمانہ حرکت کا نام ہے یعنی رات اور دن کا آنا ،طلوع و غروب کا ہونا یہ سب آسمان کی حرکت سے جڑا ہوا ہے۔ اگر آسمان کا حرکت موقوف ہو جائے تو جو وقت موجود ہوگا وہی رہے گا یعنی رات ہو تو رات دین ہو تو دین رہے گا۔ ممکن ہے اللہ تعالی نے اس رات آسمان کے حرکت کو موقوف کر دیا ہو اس میں کچھ تعجب کی بات نہیں۔ معزز مہمان کے لیے بھی دنیا میں دوسرے سواری کے راستے کو بند کر دیا جاتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعد پھر آسمان حرکت میں آگیا لہذا جہاں سے وقت رکا ہوا تھا وہیں سے شروع ہوا۔
جواب (2)

یہ سب کو معلوم ہے کہ انسان کا خیال ذرا سی دیر میں بہت دور پہنچ جاتا ہے۔ خیال کی حرکت بہت تیز ہے وجہ یہ ہے کہ خیال روح کی ایک قوت ہے اور نہایت لطیف چیز ہے اس لیے اس کے سیر کرنے میں کوئی مانع نہیں ہوتا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک تو ہمارے خیال سے بھی پاکیزہ تر ہے۔ جب خیال ذرا سی دیر میں کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم اطہر زمین سے آسمان تک اور وہاں سے عرش تک ذرا سی دیر میں ہو آئے تو کیا تعجب کی بات ہے۔