جواب:
صحیح واقعہ حضرت زینب رضی اللہ عنھا آپ کی پھوپھی ذاد بہن تھیں اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپکے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے تھے ۔ پھر حضرت زید جو کہ منہ بولے بیٹے تھے ان کا نکاح حضرت زینب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر دیا جب انکے درمیان نباہ نہ ہو سکا تو حضرت زید نے طلاق دے دی اس کے بعد اللہ کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب سے نکاح کیا جیسا کہ سورہ احزاب میں ہے اور یہ نکاح ایک رسم کو توڑنے کے لیے تھا جو کہ اس زمانے میں منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا سمجھا جاتا تھا اور جس طرح حقیقی بیٹے کی بیوی سے نکاح کو حرام سمجھا جاتا ہے اسی طرح منہ بولے بیٹے کی بیوی کو حرام سمجھا جاتا تھا نہ کہ اس نکاح سے شہوت کو پورا کرنا تھا۔ نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نعوذ باللہ) ان پر عاشق تھے
اور اس کی وضاحت مفتی تقی عثمان صحابہ نے بڑے اچھے انداز میں کیا ہے کہ شریعت کے جو احکام عام پھیلے ہوئے خیالات کے خلاف ہوں اس کو بس زبان سے کہہ دینا کافی نہیں اگر کسی انسان کے ذہن میں کسی چیز کی برائی بیٹھ گئی ہو تو اس کو ذہن سے نکالنا مشکل ہوتا ہے ہاں جب کوئی ایسا شخص اس کام کو انجام دے جو لوگوں کے سامنے معزز اور قابل اتباع سمجھا جاتا ہے اب وہ کام اس کے کرنے کی وجہ سے لوگوں کے ذہن سے وہ برائی نکل جاتی ہے۔
لہذا اس بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تاکہ اس کی برائی ختم ہو جائے۔