جواب:

اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا تو اس وقت آپ رضی اللہ عنہا نابالغہ(minor) تھیں اور وہ نکاح مکہ معظمہ میں ہجرت سے قبل ہوا مگر جب آپ رضی اللہ عنہ کی رخصتی ہوئی تو اس وقت آپ بالغہ(adult) تھیں موجودہ زمانے میں اس نکاح پر جو اعتراض (objection) کیا جاتا ہے ان کو پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے اگر اس نکاح سے کچھ پریشانی تھی تو سب سے پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اعتراض کرنے کا حق تھا جو خود والد تھے.
اگر اس بات کو پس پشت ڈال دیا جائے اس بات کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں کہ مشرکین مکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کے پیاسے تھے اور منافقین بھی جانی دشمن تھے ہمیشہ آپ کے خلاف پروپیگینڈا کرتے اگر یہ کام ان کے نگاہ میں ذرہ برابر بھی عیب دار یا قابل جرم (crime)ہوتا تو وہ آسمان سر پر اٹھا لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دین رات پروپیگنڈا کرنے لگ جاتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا معلوم ہوا اس زمانے کے اعتبار سے یہ نکاح قابل اعتراض نہیں تھا
( اور دنیا میں بھی اس کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے سن 2002 میں اخبار میں چھپا کہ ایک اٹھ سال کی بچی حاملہ ہو گئی تو اب اس کا جواب کیا ہوگا۔)