جواب :
بالکل مناسب ہے بلکہ دنیا کے تمام مذاہب میں جائز سمجھا جاتا تھا عرب، ہندوستان، ایران، مصر، بابل وغیرہ ممالک کی ہر قوم میں کثرت ازدواج اس دور کی رسم میں جاری تھی اور اسی فطری ضرورتوں سے آج بھی کوئی اس کاانکار نہیں کر سکتا جیسے ویدک تعلیم غیر محدود تعدد ازدواج کو جائز رکھتی ہے اور اس سے 10، 13، 27 بیویوں کو رکھنے کی اجازت معلوم ہوتی ہے-
کرشن جو ہندوستان کےہندوؤں میں واجب التکریم مانے جاتے ہیں ان کی سینکڑوں بیویاں تھی اور ہمارے نبی کی 25 سے 58 عمرتک ایک ہی بیوی تھی اور چار پانچ سال حضرت سودہ کے ساتھ گزارے پھر 58 سال کی عمر میں چار بیویاں جمع ہوئی اور باقی بیویاں دو تین سال کے اندر حرم نبوت میں آئی، لہٰذا یہ تعدد ازواج کوئی عیب نہیں ہے۔