جواب : ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لالچی نہیں تھے کیونکہ حضرت خدیجہ نے خود نکاح کا پیغام بھیجا تھا، ہمارے نبیﷺ کی امانت و صداقت کو دیکھ کر، اور ہمارے نبی ﷺکو دوسروں کی طرح مال سے لگاؤ نہیں تھا ورنہ تو ہمارے نبی ﷺکے پاس پوری دنیا سے زیادہ مال ہوتاکیونکہ اللہ نے احد پہاڑ سونا بنانے کی آفر کی تھی،اسی طرح مشرکین مکہ نے ما ل ودولت کا ڈھیر آپﷺ کی خدمت میں پیش کرنے کی آفر کی تھی لیکن ہمارے نبیﷺ کو مال سے لگاؤ، محبت، لالچ نہیں تھی اس لیے منع کر دیا۔ اور ہڑپ کرنے والا دوسروں کا ہڑپ کر کے خود مالدار بن بیٹھتا ہے لیکن کسی کا کوئی مال ہڑپ نہیں کیا اس لیے کفار نے ہمارے نبیﷺ کو ساحر، کاہن تو کہا لیکن خائن نہیں کہا بلکہ امین ہی کہتے رہیں، معلوم ہوا معترضین کی عقل خراب ہو گئی ہے-