سوال :
ایک اور مستشرق عالم منٹگمری واٹ نے اپنی طرف سے مفروضہ گڑھ لیا ہے اور کہا ہے کہ ابتدا میں مسلمانوں کو ابراہیم سے اسماعیل اور (عہد قدیم کے مطابق) عربوں کے تعلق کا علم نہ تھا، تاہم مدینہ میں یہود سے قریبی رابطے پر انہیں اس قسم کے معاملات کا پتہ چلا۔ [ Muhammad at medina p 204]
جواب :
منٹگمری کا یہ دعوی بھی صریح جھوٹ ہے کہ یہودیوں سے تعلقات کی وجہ سے عربوں اور مسلمانوں کو اس قسم کے تعلقات کا پتہ چلا، بھلا عربوں کو یہودیوں سے نسب کا سبق پڑھنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیوں کہ اقوام عالم میں سب سے زیادہ نسب سے واقفیت رکھنے والے عرب ہی تھے۔ انھیں گھوڑے اور اونٹ تک کے نسب معلوم ہوتے تھے تو اپنے نسب نامے کیوں کر محفوظ نہیں ہوں گے جب کہ یہ نسب آپس میں فخر و مباہات کا بھی ذریعہ تھا؛ بلکہ یہی عرب اسلام کے بعد یہودیوں سے کہا کرتے تھے : ہمارے اور تمہارے باپ ایک ہیں اور ہم انھیں کے دین پر ہیں تم بھی ایسے ہی بن جاؤ ۔ دوسری طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے ہی کعبۃ اللہ کا حج کرتے آرہے تھے اور بڑے فخر کے ساتھ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ ابراہیم کے پیرو کار ہیں؛ لہذا یہ کہنا کہ مسلمانوں کو حضرت ابراہیم سے حضرت اسماعیل اور عربوں کے تعلق کا علم یہود کے ذریعے ہوا؛ حقیقت سے انتہائی بعید ہے۔