جواب:

الم، یس وغیرہ کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے۔
قرآن مجید کی کل 29 سورتیں ایسی ہیں جو حروف مقطعات سے شروع ہوتی ہیں ان حروف کے معنی اور مقاصد کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
لیکن مختلف زمانوں میں مختلف علماء نے اس کی توضیح کی ہے ان میں بہترین توجیہ جس کو علامہ زمخشری اور ابن تیمیہ رحمہما اللہ نے پسند کیا ہے ۔وہ یہ ہے کہ انسان کا جسم مختلف عناصر (elements)سے تیار کیا گیا ہے مٹی(soil) اور گارا بھی انہی بنیادی عناصر میں سے ہیں لیکن یہ کہنا غلط ہوگا کہ انسان بالکل مٹی جیسا ہے ۔ہم سب ان عناصر تک پہنچ سکتے ہیں جو انسانی جسم میں پائے جاتے ہیں اور ہم انسان کی شکل و صورت تو بنا سکتے ہیں لیکن زندگی نہیں دے سکتے۔
اسی طرح قرآن کریم کے حروف جیسے الم سے بھی ہم خوب واقف ہیں اور انہیں اکثر الفاظ بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
جس طرح ہمیں انسانی جسم کی ترکیبی عناصرہمیں معلوم ہین اور ہم تمام چیزوں کو بھی حاصل کر سکتے ہیں لیکن زندگی کی تخلیق ہمارے بس میں نہیں۔
اسی طرح جن حروف پر قرآن مشتمل ہے ان کا علم رکھنے کے باوجود ہم قرآن کریم کی فصاحت اور حسن کلام پر پکڑ حاصل نہیں کر سکتے۔ یوں قرآن بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کلام الہی ہے۔