جواب:

قرآن مجید میں سورۂ بقرہ کے آیت نمبر 6 اور 7میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ان الذين كفروا سواء عليهم ءانذرتهم ام لم تنذرهم فهم لا يؤمنون۔ ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى ابصارهم غشاوة ولهم عذاب عظيم
ترجمہ جنہوں نے انکار کیا برابر یہ ہے کہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔اللہ تعالی ان کے دلوں اور ان کے آنکھوں پر مہر لگا دیا ہے اور ان کے نگاہوں پر پردہ پڑے ہوئے ہیں اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

عربی زبان میں لفظ قلب کی معنی دل کے بھی ہیں اور ذہانت کے بھی ہیں لفظ قلب سے فہم و ادراک کا مرکز(Center of understanding and perception) بھی مراد لیا جاتا ہے۔
ان آیات میں جو لفظ قلب استعمال ہوا ہے اس سے مراد دل بھی ہے اور ذہانت بھی ہے . اس کا مطلب اللہ تعالی نے کفار کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر مہر لگا دی ہے اور وہ نہ تو بات سمجھ پائیں گے اور نہ ایمان لائیں گے اور ایسا کیوں کیا گیا وہ سابقہ سوال نمبر 105 میں گزر چکا ہے۔
ایک مثال سے سمجھیے اگر کوئی سائنسداں اپنی اہلیہ سے کہے میں تم سے دل کی گہرائیوں سے محبت کرتا ہوں تو کیا وہ کہے گی کہ سائنسی لحاظ سے جذبات کا مرکز دل نہیں ہے؟ کیا وہ اسے یہ مشورہ دے گی کہ تمہیں کہنا چاہیے کہ میں تم سے اپنی دماغ کی گہرائیوں سے محبت کرتا ہوں؟ لیکن وہ ایسا نہیں کہتی بلکہ خاوند کے دل کی گہرائیوں سے محبت کو تسلیم کرتی ہے لہذا ٹھیک اسی طرح لفظ قلب مرکز خیالات اور ادراک کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے کبھی کوئی عرب لوگ اس پر اعتراض نہیں کریں گے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس کے سیاق و سباق سے اس سے مراد انسان کا مرکز خیالات اور جذبات ہے۔