جواب:
قرآن کریم میں مسئلہ توحید، قیامت کے احوال اور انبیاء علیہ السلام کے واقعات کا بیان متعدد مقامات پر بار بار اس لیے آیا ہے۔ کہ اہل عرب عام طور پر مشرک(polytheists) اور بت پرست تھے ان تمام چیزوں کے منکر تھے ۔اہل عجم میں بعض اقوام بھی ان کی طرح منکر تھے اور بعض قومیں (nations)جیسے عیسائی ان چیزوں کے اعتقاد میں افراط و تفریط میں مبتلا تھیں۔
اس لیے ان مضامین کی تحقیق و تاکید کے لیے مسائل توحید و قیامت کے احوال وغیرہ کو بار بار کثرت سے ذکر کیا گیا۔
اور دوسرے اسباب بھی ہیں جیسے خود قرآن کریم میں موجود ہے۔
(وكلا نقص عليك من انباء الرسل ما نثبت به فؤادك الايه) پیغمبروں کی خبروں میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ واقعہ سناتے ہیں جو آپ کے دل کے لیے تسلی کا باعث ہو۔