اعتراض:

 خود قیاس کریں قرآن کریم فصاحت و عبارت کے اعتبار سے کہاں بے مثال ہو سکتا ہے؟ کہ اس میں اکثر جگہ الفاظ کا تکرار(Repetition) ہے جیسے سورہ قتال میں ( مثل الجنة التي وعدالمتقون فيها انهر) میں انهر کا لفظ چار مرتبہ آیا ہے اسی طرح دوسری آیات میں بھی تکرار موجود ہے۔

جواب:

 سائل کو نہ علوم ادب سے واقفیت ہے نہ فصاحت و بلاغت (Eloquence )کی حقیقت سے واقفیت ہے۔
جواباً فارسی وعربی کے اشعار ذکر کیے جاتے ہیں۔
١.)شعر فارسی۔
آں کہ چوں پستہ کفتمش ہمہ مغز پوست بر پوست بود ہم چوں پیاز
٢.)شعر عربی ۔
يسعدني في غمزة بعد غمزة

سبوح لها منها عليها شواهد
٣.)اردو شعر۔
شوق سے عشاق کے خون پہ کمر باندھیۓ
تیر و کمان باندھیۓ تیغ و تبر باندھیۓ

اگر الفاظ کے تکرار فصاحت کے منافی ہوتےتو یہ فارسی،عربی و اردو شعراء و فصحاء اپنے قصائد میں الفاظ کا تکرار نہ لاتے۔
قصیدوں اور غزلوں میں جو الفاظ کو مکرر لاتے ہیں اس کو ردیف کا نام دیتے ہیں۔
علامہ تفتزانی اور سکاکی رحمہ اللہ نے فصاحت کے منافی اس تکرار کو فرمایا ہے جو کلام کو کمزور کر دےاور وہ تکرار جس کے کلمات میں تنافر ہو۔

لہذا قرآن کریم کے یہ تکرار فصاحت و بلاغت کے منافی نہیں ہیں۔