اعتراض:
قرآن پاک میں ہے (وجعلنا من الماء كل شيء حي)
ترجمہ اور ہم نے ہر جاندار کو پانی سے بنایا حالانکہ بہت جاندار ایسے ہیں جو پانی سے پیدا نہیں ہوئے جیسے جن آگ سے، فرشتے (angels) نور سے پیدا ہوئے اور خود حضرت آدم علیہ السلام جن کی نسبت قرآن كريم میں (خلقه من تراب) آیا ہے اور وہ جانور جن کو حضرت مسیح علیہ السلام گارے کا بنا کر اس میں کچھ پھونکتے تھے کہ وہ اڑ جاتے تھے لہذا سب جانداروں کو پانی سے بنانا نہیں پایا گیا؟
جواب:
لفظ اگرچہ عام ہے مگر اس کو خاص کرنے والا قرینہ( hint) موجود ہے اس لیے کہ اللہ تعالی اس آیت کے اندر اولم ير الذين كفروا ان السماوات والارض كانتا رتقا ففتقنهما ان چیزوں کو بیان کیے ہیں جن کو وہ لوگ دیکھتے ہیں اور سائل کے ذکر کردہ چیزوں کو انہوں نے کب دیکھی ہے؟ پس سوال کردہ چیزیں اس آیت کے مضمون میں شامل نہیں۔(تفسیر حقانی جلد نمبر ٣ صفحہ ٢٩٠)