جواب:

 قرآن کریم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حیات مبارک میں لکھا جاتا تھا ۔دیکھو قرآن شریف خود فرماتا ہے (وقالوا اساطير الاولين اكتتبها فهي تملى عليه بكرة واصيلا) الفرقان 5-
ترجمہ: اور کفار کہنے لگے یہ پہلے لوگوں کی منقول باتیں ہیں جن کو اس نے لکھوا لیا ہے اور وہی صبح شام اس کے پاس لکھوائی جاتی ہے.
حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب قرآن کریم کا کوئی حصہ نازل ہوتا تو آپ کاتبین وحی کو ہدایت فرماتے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں فلاں آیت کے بعد لکھ دیا جائے۔ (فتح الباری جلد ٩ صفحہ ١٨ ) اس زمانے میں کاغذ چونکہ بہت کم پائے جاتے تھے اس لیے آیات زیادہ تر پتھر کے سیلوں، چمڑے ،کھجور کی شاخوں، بانس کے ٹکڑوں وغیرہ پر لکھی جاتی تھی اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن کریم کا ایک نسخہ تو وہ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نگرانی میں لکھوائے تھے اگرچہ وہ مرتب کتاب کی شکل میں نہیں تھا
رہی بات قرآن مجید کی حفاظت کا دارومدار(dependent) صرف کتابت پر نہیں تھا بلکہ زبانی یاد کرنے پر بھی تھا چنانچہ ابتدائے اسلام میں قرآن کریم کی حفاظت کے لیے سب سے زیادہ زور حفظ پر دیا گیا اس زمانے میں حافظہ بڑا قوی تھا اتنا قوی کہ انسان کے نسل کی تو دور کی بات وہ گھوڑوں کے نسل در نسل کو بھی یاد رکھتے تھے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہت سارے حضرات صحابہ کرام نے قرآن کریم حفظ کیا تھا ان میں سے چند نام تین امہات المومنین، خلفائے راشدین ،حضرت طلحہ اور حضرت سعد وغیرہ رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین۔
اگر قرآن حکیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک جلد اور کتابی صورت میں نہ تھی تو اس سے یہ دلیل پکڑنا کہ قرآن مجید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جاتا رہا تھا یقیناً غلط ہے۔ کیونکہ پورا قرآن اکثر صحابہ کے سینے میں موجود تھا اور مختلف اشیاء پر بھی لکھا ہوا تھا۔

نتیجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قرآن مجید اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اور تین امہات المومنین( حضرت عائشہ، حضرت حفصہ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہن) کے مبارک سینے میں اسی طرح محفوظ تھا جس طرح انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا۔