جواب:
امام طحاوی رحمہ اللہ کے مشہور قول کے مطابق قرآن نازل تو ہوا تھا قریش کی زبان پر لیکن اہل عرب مختلف علاقے اور قبائل سے ہونے کی وجہ سے انہیں قرأت میں دشواری ہوتی تھی اس لیے انہیں اجازت دے دی گئی تھی کہ اپنی علاقائی زبان کے مطابق ملے جلے الفاظ کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کریں اور بس اجازت اتنی تھی کہ معنی میں برابری ہو لغت بدل جائے جیسے تعال کی جگہ ھلم لہذا جب اسلام حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں عرب سے نکل کر روم، ایران کے دور دراز علاقوں تک پہنچا تو جو لوگ اسلام لاتے تھے وہ قرآن کریم سیکھتے تھے لہذا جب مختلف صحابہ کرام نے مختلف زبانوں پر قرآن کریم سیکھا تو اسی انداز سے سکھاتے تھے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان قرأت کے سلسلے میں شدید اختلاف ہونے لگا اس میں سے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ آرمینیہ اور آذربائجان کے سرحد پر جہاد میں مشغول تھے فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ شام کے لوگ حضرت ابی بن کعب کی قرأت کے مطابق تلاوت کرتے ہیں اور اہل عراق اس قرأت سے واقف نہیں اور اہل عراق عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت کے مطابق تلاوت کرتے ہیں شام والے اس قرأت سے واقف نہیں ۔
اس نتیجے میں وہ ایک دوسرے کو کافر ٹھہرا رہے ہیں۔
لہذا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس معاملے کے سنگینی کو غور کرتے ہوئے صحابہ کرام سے مشورہ کیا اور کہا ہم چاہتے ہیں کہ قرآن ایک مصحف میں جمع ہو جاۓ تمام صحابہ کرام اس بات پر متفق ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مصحف منگوایا اور چار صحابہ کرام حضرت زید بن ثابت اور حضرت عبداللہ بن زبیر حضرت سعید بن العاص حضرت عبدالرحمن بن حارث کو ذمہ داری سونپی اور وقت کے ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتے گیا اور فرمایا جب قرآن کے جمع کرنے کے وقت میں کسی لغت کے سلسلے میں اختلاف ہو تو قریش کی زبان کے مطابق لکھنا اس لیے کہ قرآن کریم قریش کی ہی زبان میں نازل ہوا ہے۔ اس طرح قرآن کریم جمع کیا گیا ۔
رہی بات نذر آتش والا معاملہ تو اس سے کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا اس لیے کہ اسلام سے قبل بھی مذہبی دنیا میں ایسا ہوتا تھا۔