جواب :
دنیا میں صرف قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی زندگی کے تمام مسائل اسلامی نظریات اور پچھلی قوموں کے حالات انتہائی تفصیل اور عام فہم انداز میں بہت آسانی سے سمجھائے گئے ہیں سورہ جمعہ آیت نمبر ۲ میں اس کا ذکر ہے کہ پیغمبر کی بعثت کا مقصد بھی قرآن پڑھ کر لوگوں کو سنانا اور اس کے مضامین لوگوں کو سمجھانا ہے اللہ تعالی نے انسانوں کو تدبر اور تفکر کرنے کا حکم دیا ہے مگر یہ تدبر اور تفکر مفسر اول حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کی روشنی میں ہی ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے تاکہ لوگوں کی جانب جو حکم نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دے شاید کہ وہ غور و فکر کرے (النحل 44) دوسری جگہ ارشاد ہے کہ یہ کتاب ہم نے آپ پر اس لیے اتاری ہے تاکہ آپ ان کے لیے ہر اس چیز کو واضح کر دے جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں (النحل 64)
اللہ تعالی نے ان دونوں آیات میں واضح طور پر بیان فرما دیا کہ قرآن کریم کے مفسر اول حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقوال و افعال کے ذریعے قرآن کریم کے احکام و مسائل بیان کرنے کی ذمہ داری بحسن و خوبی انجام دی لہذا قرآن کریم کو مبہم کتاب کہنا یہ بغض و عناد پر مبنی ہے۔