جواب:
قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کا یہ مطلب نہیں ہے جو سوال سے ظاہر ہو رہا ہے کہ مسلمان دوسرے مذہب والوں کو برداشت نہیں کرتے بلکہ اس آیت کریمہ کا نزول ان مشرکین کو جواب تھا جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیشکش رکھی تھی کہ کچھ مدت ہم آپ کے ساتھ آپ کے دین پر عمل کریں گے اور کچھ مدت آپ ہمارے ساتھ ہمارے دین پر عمل کریں جس کے جواب میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ،اسلام کافی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مسلمان کسی دوسرے مذہب پر عمل نہیں کر سکتے یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم کسی دوسرے مذہب والے کو برداشت نہیں کرتے اور بھارت میں مذہبی آزادی ایک بنیادی حق ہے جس کی ضمانت بھارتی آئین کی شق نمبر 25، 28 میں دی گئی ہے بھارت ایک سیکولر ملک ہے جس کے مطابق ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہے اور دوسری بات بھارت ہمارے آبا و اجداد کی جائے پیدائش ہے سب سے پہلے پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام ہندوستان میں اترے تھے بھارت میں ہم مسلمان کسی کے مرہون منت نہیں ہے اس ملک کی آزادی میں ہمارے اکابرین کی قربانیاں شامل ہے صدیوں تک یہاں مسلم حکمرانوں کا راج رہا لیکن کسی مسلم بادشاہ نے غیر مسلموں کو جلا وطن نہیں کیا لہٰذا یہ ملک بھارت ہم مسلمانوں کا بھی ہے، نہ کوئی ہم کو نکال سکتا ہے نہ ہم پر احسان جتلا سکتا ہے۔