اعتراض :

آیت 1 : قُل لِّلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوْا لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللّٰهِ لِيَجْزِيَ قَوْمًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ .
(سورہ جاثیہ آیت 14)
ترجمہ:
جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان سے درگزر کرو

آیت 2 : قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُونَ .
(سورہ توبہ آیت 29)
ترجمہ:
جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان سے جنگ کرو

کچھ لوگوں کا دعوی ہے کہ ان آیات میں تضاد ہے؛ کہ کبھی خدا آخرت کا انکار کرنے والے کو درگزر کرنے کی بات کہتا ہے تو کبھی اس سے جنگ کرنے کی بات کہتا ہے ۔
آخر منکرینِ آخرت کے ساتھ کیا کیا جائے ؟
قرآن کا دعوی ہے کہ اس کی آیات میں تضاد نہیں ہے ۔
یہ لو ہم نے تضاد پیش کردیا لہذا یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہوسکتا ۔

جواب :

معترض کی طرف سے پیش کیا گیا ترجمہ صحیح نہیں ہے لہذا صحیح ترجمہ دیکھیے!

پہلی آیت کا ترجمہ:
ایمان والوں سے کہہ دو کہ درگزر کریں ان سے جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے ۔

دوسری آیت کا ترجمہ:
لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول نے اور سچے دین کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دیے گئے ، جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہو کر ۔
معترض نے حسبِ معمول قرآنِ کریم کو بے ربط سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔
پہلی آیت مکۂ مکرمہ میں نازل ہوئی یعنی مکہ والوں نے جو تکلیفیں اذیتیں دیں ان سے درگزر کرو ۔
نیز آیتِ کریمہ میں موجود لفظ
” أیام الله ” سے مراد اللہ کے وہ معاملات ہیں جو وہ آخرت میں انسانوں کے ساتھ کرے گا یعنی جزا اور سزا ، ایک بات جو قابلِ غور ہے وہ یہ کہ یوں بھی تو کہا جاسکتا تھا کہ ” مشرکین سے درگزر کریں ” اس کے بہ جائے یوں کہا گیا کہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو خدا تعالیٰ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے ، یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان لوگوں کو اصل سزا آخرت میں دی جائے گی کیوں کہ یہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ۔

معترض کی طرف سے پیش کردہ دوسری آیت سے قبل کلامِ پاک میں فتحِ مکہ اور غزوۂ حنین کا ذکر تھا جن میں یہ حکم تھا کہ مشرکین سے لڑو اور جزیرۃ العرب کو مشرکین سے پاک کرو ۔
اب ان آیات میں یہود و نصاری سے جہاد کا حکم ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرب کے ساتھ جہاد اور قتال سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالی نے اپ کو اہلِ کتاب سے جہاد کا حکم دیا ۔
لہذا دونوں آیات کے مخاطب الگ الگ ہیں موقعہ و محل الگ ہیں اس لیے ان میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔
اللہ ہمیں قرآن پر ایمان کے ساتھ ساتھ اس کو سمجھا بھی دے آمین۔