جواب:
اگر کوئی ذبح کرنے کا اسلامی طریقہ کو سمجھ لے تو اسے معلوم ہوگا کہ یہ طریقہ رحمدلانہ(Merciful) بھی ہے اور سائنسی لحاظ سے بھی بہترین ہے۔
1) اسلامی طریقہ یہ ہے کہ ذبح کرنے کا آلہ تیز ہونا چاہیے ۔
2)اس کے بعد کم از کم تین رگ کاٹنا ضروری ہے کھانا اور سانس اور خون کا رگ۔
3)سر اتارنے سے پہلے خون مکمل نکل جانا چاہیے وجہ یہ ہے کہ خون میں طرح طرح کے جراثیم(Germs) نشوونما(Growth) پاسکتے ہیں۔
4)حرام مغز کو نہیں کاٹنا چاہیے چونکہ حرام مغز کے کاٹنے کی وجہ سے دل کی دھڑکن رک جاتی ہے اور خون مختلف نالیوں میں جمع ہو جاتا ہے اس لیے مسلمان کا ذبح کرنے کا طریقہ زیادہ صحت مند اور محفوظ ہے۔ کیونکہ خون میں مختلف قسم کے جراثیم(germs) ہوتے ہیں جو مختلف قسم کی بیماری کا باعث بنتے ہیں لہذا زیادہ سے زیادہ خون کو جسم سے نکال دینا چاہیے اور ذبح کا جو اسلامی طریقہ ہے چونکہ اس صورت میں خون رگوں سے باہر آجاتا ہے اس وجہ سے گوشت زیادہ دیر تک تازہ بھی رہتا ہے اور جانور کو تکلیف نہیں ہوتی۔
رہی بات جانور جو مرنے کے وقت تڑپتا ہے ،ٹانگیں ہلاتا اور مارتا ہے تو یہ درد کی وجہ سے نہیں بلکہ خون کی کمی کے باعث عضلات(Muscles) کے پھیلنے اور سکڑنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اب اسلامی طریقہ ذبح سے سمجھ سمجھ میں آگیا ہوگا کہ کیوں اسلامی ذبح کا طریقہ زیادہ بہتر اور صحیح ہے۔