(مشہور فرانسیسی مشتشرق محقق ” فانسان مونتائ”کا سفر ایمان )
23 جون 1993 کو جمعہ کے مبارک دن میں “موریتانیا” کی مسجدرمال میں فرانس کے مشہور مستشرق محقق فانسان مونتائ نے اسلام کےتیئں اپنےدیرینہ جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اپنےایمان کااعلان کر کےمستشرقین اورصہیونیوں میں کھلبلی مچا دی۔
“فانسان منتاہی” نےقبول اسلام کےبعدپیرس سےشائع ہونے والے اخبارات کوانٹرویوکےدوران اسلام قبول کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئےنہایت واضح طور پرکہاکہ میں نے اسلام اور قرآن کا 40 سال تک مطالعہ کیاہے.پورےاعتمادکےساتھ مسلمان ہواہوں اس لیے دنیا خصوصًا یوروپ میرےاسلام کووقتی اور ہنگامی جذبات کے تناظر میں نہ دیکھے”فطرۃ الله التي فطر الناس عليها” کے پیش نظر اپنی فطرت کی آوازپرلبیک کہتے ہوئےدل کی گہرائیوں سے پیداہونےوالی ایمانی طاقت کے سامنے اپناسرتسلیم خم کر کےمیں نےاسلام کا اعلان کیا ہے اور اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے اپنا نام “منصور باللہ الشافعی” منتخب کیا ہے۔
40 سال تک حق کےلیےطویل جستجوکےبعدفرانسیسی مستشرق کےقبول اسلام سےیوروپ میں جو دھماکہ خیزصورتحال پیدا ہوئی اس سےاس امرکااندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اب وہ بہت تیزی سے اس حقیقت کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ اسلام کا یہ نظریہ حقیقت پر مبنی ہے کہ “ہر انسان کی پیدائش فطرت اسلام پر ہوتی ہے “یعنی دنیا میں قدم رکھنے والے انسان کو والدین کی گرفت سے آزاد کر کے دیکھا جائے تو اس کی فطرت سب سے پہلے اسلام کی طرف متوجہ ہوگی یہودی، نصرانی مجوسی اور کافر تو اس کے والدین بنا دیتے ہیں۔ تحقیق اور ریسرچ کی دنیانےبھی اس نظریےکی صداقت کے لیےواضح مثالیں پیش کرنی شروع کر دی ہے کہ ہر عمر میں انسان کی فطرت میں اسلام کی طرف میلان کی پوری صلاحیت موجود رہتی ہے۔
“فانسان مونتائی “کا نہ صرف یہ کہ مستشرق اور کیتھولک رسم و رواج کے پابند خاندان سے تعلق ہے بلکہ تحقیق و تصنیف اورریسرچ کی دنیا میں ایک مشہور اور معتبر نام ہے .اسلامی فکر و تہذیب پر اپنی 50 سے زائد تصنیفات سے مغربی دنیا اور عالم اسلام میں اپنی شناخت بنائی “الفكر العربي”” العربيۃ الحديثۃ” “العالم العربي” “رحلات ابن بطوطه” “المغرب” “ايران “”اندونيسيا”” المسلمون السوفيات”” دين يغزو افريقيۃ”” الريح والروح والروح”” مختارات ابن نواس “”مقدمۃ ابن خلدون” ترجمہ مثال کے طور پر ان کی مذکورہ چند عالمی تصنیفات ہیں جن میں بھرپور انداز میں اسلامی فکر کو پیش کر کے عالم اسلام کو اپنی طرف متوجہ کیا اور داد تحسین حاصل کی۔
“فانسان مونتائی” کہتے ہیں بچپن سے ہی میں اپنے آباواجداد کے کیتھولک مذہب سے مطمئن نہیں تھا چونکہ میری تربیت اور نشونما اسی ماحول میں ہوئی اس لیے مجھے کسی دوسرے مذہب کے بارے میں سوچنے کا موقع نہیں ملا امتحان کی گھڑی میری زندگی میں اس وقت آئی جب حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں عیسائیوں کے عقیدے کا علم ہوا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نصرانیوں کے عقیدہ نے مجھے سخت آزمائش میں ڈال دیا،اس کے بعد ہی میں نے سنجیدگی سے اس سلسلے میں مطالعہ شروع کیاتاکہ مجھ پر حقیقت واضح واضح ہو جائے۔
“فانسان مونتائ “فرط مسرت کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں “پھر کیا تھا اللہ کی رحمت میری طرف متوجہ ہوئی اور منزل کی طرف ہدایت ہوئی کہ حضرت عیسٰی ؛اللہ کے رسول ہیں اللہ کے بیٹے نہیں. اب صاف طور پر مجھ پر واضح ہو گیا کہ مسیحیوں کا عقیدہ تثلیث بطلان پر مبنی ہے۔ اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے اپنے کلام پاک میں خاتم النبیین کہا ہے. یہی وہ بنیادی اسلامی عقائد ہیں جن کی روشنی میں میرا اگلا ایمانی سفر شروع ہوا”
اسلام میں داخل ہونے کے اخلاقی اسباب کو بیان کرتے ہیں “فانسان مونتائی” کہتے ہیں” نصرانیوں کا بنیادی غلطی کا نظریہ سراسر غلط ہے اس باب میں اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ ہر انسان دنیا میں بغیر گناہ کے جنم لیتا ہے البتہ دنیا میں وہ جو کچھ بھی کرے گا اس کا بدلہ آخرت میں ملے گا اسلام دین اور دنیا دونوں کا مذہب ہے ۔اس میں رہبانیت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بندوں سے آسانی اور سہولت مطلوب ہے تنگی اور بے جا سختی نہیں۔ البتہ جو لوگ اسلام کو تعصب اور شدت پسندی کے ساتھ جوڑتے ہیں دراصل وہ تنگ نظری میں مبتلا ہیں ایسے لوگ اسلام کو قریب آکر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ وہ وہ عدل ومساوات کا دین ہے۔ امتیاز ی برتاؤ اس کے نزدیک روا ہی نہیں”
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام کی روشن اور صاف ستھری تہذیب نے مجھے اپنے قریب کیا ۔یوروپ کو یہ احسان کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ مسلمانوں نے اپنے دورِ علم و تہذیب میں تہذیب و تمدن کی روشنی اسے دی ہے۔اگرچہ مذہب کی تبدیلی، زبردست ذہنی کشمکش کے بعد ہی رونما ہوتی ہے۔ اور خاص طور پر ہم جیسے لوگ جن کواسلام مخالف سرگرمیوں میں کسی زمانے میں شہرت رہی ہو۔ ایسے ماحول میں نصرانیت کو چھوڑ کر اسلام کی طرف مائل ہونا ایک دھماکہ سے کم نہیں ہے ۔جیسا کہ حال ہی میں مشہور فائٹر “محمد علی کلے” کے قبول اسلام سے مغربی دنیا میں ہلچل تھی. لیکن فطرت کے ساتھ انصاف تو یہ ہے کہ اسے تسلیم کیا جائے اور دنیا کے سامنے اس کا اعلان بھی کیا جائے۔
میں نے اپنے دل میں اسلام کے لیے زرخیز زمین کو محسوس کیا جس میں ایمان کی شاخیں نکلنے کی بھرپور صلاحیت موجود تھی چونکہ میرا تعلق ایک مسیحی اور کیتھولک خاندان سے ہے اس لیے اسلام کی تئیں میرےجذبات کے نرم ہونے میں یقینا میرا مطالعہ اور تحقیق سے زیادہ اللہ کا فضل شامل حال رہا۔
آج کے اس مادی اور ظاہری آزادی کے دور میں کسی غیر مسلم بالخصوص مستشرق کا اسلام کے قریب ہونا مذہب اسلام کے حقانیت کے واضح دلیل ہے۔ مسیحیت میں مادیات کی غیر معمولی اہمیت، بےجا رہبانیت، اسلام دشمنی ،جنسی اباحیت اور انارکی نے مجھے مزید غور و فکر کرنے پر مجبور کر دیا۔
فرانسی سے مستشرق “فانسان مونتائی” کہتے ہیں مسیحیت کی اس مضموم فضا میں میری طبیعت مکدر ہوتی گئی اور میرے خوابیدہ جذبات پوری شدت کے ساتھ جاگ اٹھے مسیحیت میں زندگی سے فرار ہے ۔جبکہ اسلام میں مسائل میں رہتے ہوئے منزل کی طرف آسانی سے پہنچاجاسکتاہے۔ اسلامی تاریخ کے مطالعے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ دائمی اور حقیقی مسرت کا ضامن صرف اسلام ہے۔ جو سب سے زیادہ میرے قلب و دماغ اور ضمیر پر بوجھ کا احساس دلاتارہا وہ مسیحیت میں حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا اور اس کا بیٹا ہونے کا نظریہ ہے ۔اور نصرانیوں کی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی نے مجھے مزید حیرت میں ڈال دیا۔
” فانسان مونتائی” نے قرآن اور انجیل کے تقابلی مطالعہ کے بعد اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ آج یہودی اور نصرانی خود فریبی کا شکار ہیں۔ میں اللہ کا جس قدر شکر ادا کروں کم ہے کہ اس نے اسلام کی حقانیت مجھ پر واضح کر دی اب میرا عقیدہ ہے کہ اللہ ایک ہے قرآن اللہ کی کتاب ،اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امی اور یتیم ہیں ۔آپ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ پوری دنیا کےانسانوں کے لیے رحمت بن کر آئے ۔میں نے اپنے دل میں مذکورہ عقائد کے لیے تصدیق اور اقرار کی شمع روشن کر لی ہے۔ ان شاءاللہ اسی کی روشنی سے میری زندگی کی تاریخی پہلو بھی چمکیں گے۔
“فانسان مونتائ” کہتے ہیں اسلام آزادی ،مکمل اختیار،اورہردور میں ترقی سے عبارت ہے۔ جن لوگوں نے اسلام کے ساتھ جمود اور دقیانوسیت کو جوڑا ہے دراصل وہ ایک فریب ہے۔ جس کو قرون وسطی کے صلیبیوں نے اختراع کیا ہے۔ اس وقت صلاح الدین ایوبی نے نہایت بےباکی، جرأت، بصیرت اور عقلمندی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا۔ جس کی ایک طویل تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے ،کہ” ابوعلامعری ” کے دور میں غروب کے وقت مسلمانوں کو اذان دیتے دیکھ کر ناقوس بجانے لگتے یہ اسلام کے خلاف تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟
بہرحال اگر میں نصرا نیوں اور مسیحیوں کے اسلام دشمنی سرگرمیوں کو بیان کروں تو ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہے، مستشرقین نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کتنے اور کس قدر خوفناک پروگرام مرتب کیے ہیں وہ ایک مستقل باب ہے، اللہ مجھے توفیق دے کہ اس سلسلے میں مزید تفصیلات آپ قارئین کو فراہم کر سکوں۔
“فانسان مونتائی” نہایت فخر کے ساتھ اسلام کے دورِ ترقی کا ذکر کرتے ہیں “پوری اسلامی تاریخ میں مسلمانوں نے جو فتوحات حاصل کی ہیں، ان ملکوں میں ہمیشہ امن و محبت اور صلح و آشتی کا پیغام لے کر داخل ہوئے ہیں،تخریب اور ظلم و تشدد کا راستے سے نہیں ۔مسلمان حکمرانوں نے یتیموں، فقیروں اور مظلوموں کی حمایت کی ہے”
آخر میں انہوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک نیک جذبات کا اظہار کیا ہے۔ اور مستشرقین کی اسلام دشمنی سے باخبر رہنے کی درخواست کی ہے اس لیے کہ اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ بگاڑنے میں ان کی پوری لابی متحد ہے۔ اللہ ان کے شرور و فتن سے عالم اسلام اور تمام مسلمانوں کے حفاظت فرمائے اٰمین ۔
(العالم الاسلامي مكه المكرمه )
30اکتوبر تا 5نومبر 1990ء
(روشنی کی طرف صفحہ 31)