ہر انسان کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جو اس کی پوری زندگی کے لیے عنوان بن جاتا ہے۔ ہم جس خاتون کا ذکر کرنے جا رہے ہیں اس کی زندگی میں بھی ہدایت کی روشنی کا ایک ایسا لمحہ آیا جس نے اس کے ماضی کی 24 سالہ زندگی کے رخ کو موڑ دیا ۔یہ نوجوان خاتون امریکہ کے دارالحکومت نیویارک کی نہایت آزاد ماحول میں مسیحی خاندان کے اصولوں پر زندگی گزار رہی تھی کہ اچانک ہو “جین شمرول” سے “حلیمہ” ہو گئی. پردے کے مخالف نے پردہ کو اپنا لیا. اسلامی شہروں میں سکونت کو ترجیح دینے لگے. اور قرآن کریم کا حفظ کرنے لگی. آخر کار اتنا بڑا انقلاب اس کی زندگی میں کیوں اور کیسے آیا ؟کس چیز نے اس کی دنیا میں پھیلی مختلف عیش و عشرت کے سامان سے اس کے ذہن کو ہٹایا؟
“سیدہ حلیمہ “اپنے اسلامی سفر کی داستان چھیڑتے ہوئے بیان کرتی ہیں” نیویارک میں مختلف انگریزی کے کتابوں کے مطالعہ کے شوق نے ایک روز “سُبکی “کی اسلام کے بارے میں انگریزی کتاب کے مطالعے پر مجبور کیا چونکہ میں مسیحیت سے تعلق رکھتی تھی اس لیے اس کتاب کے مطالعے سے پہلے تو گھبرائی مگر فورًا ذہن میں خیال آیا کہ اس کا مطالعہ صرف اسلام کی جانکاری کے لیے کروں۔ پوری کتاب کے مطالعہ کا ارادہ بھی نہیں تھا لیکن جب مطالعہ شروع کیا تو پوری کتاب میں نے ختم کر ڈالی اور اس موضوع پر مزید کتابوں کے پڑھنے کا شوق بڑھ گیا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے میں نے مرکز اسلامی نیویارک سے رابطہ قائم کیا اور مزید کتابوں کا مطالعہ کیا ۔یہاں تک کہ میں نے اسلامی موضوعات پر کافی کتابوں کا مطالعہ کر لیا۔ بس کیا تھا میرے دماغ میں اسلامی جذبات موجیں مارنے لگے۔ اور میں اس مذہب اسلام پر م قربان ہونے لگی جس کو مغربی تہذیب نے بدنام کرنے کی ناکام کوششیں کیں۔ اور میں نے وفورے شوق میں پورے ہوش و حواس کے ساتھ مرکز اسلامی نیویارک میں اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔
ان ایام میں جب میں اسلامی کتابوں کے مطالعہ کے سلسلے میں مرکز اسلامی جاتی تھی اس کے مدیر سے شناسائی ہو گئی۔ اس عربی فاضل نوجوان مسلمان نے محض میرے اسلام کی خاطر مجھے شادی کا پیغام دیا جبکہ اس نوجوان سے میں نے اسلام کے بارے میں کافی معلومات بھی حاصل کی تھی۔ میں نے اپنے لیے سعادت سمجھ کر پیغام قبول کر لیا اور ہم دونوں نے شادی کر لی۔
شادی کے بعد “حلیمہ” کی زندگی میں اسلامی پیغام کو عام امریکی لوگوں تک پہنچانے میں کتنی مدد ملی؟ اس کے بارے میں بیان کرتی ہیں ہم دونوں کے رفاقت نے امریکہ میں عورتوں کے درمیان اسلام کے پیغام کو پہنچانے میں بہت اہم رول ادا کیا۔ قرآن کریم میں عورتوں کے بارے میں کیا احکامات ہیں؟ امریکی خاتون سن سن کر بہت تیزی سے اسلام کے قریب آرہی ہیں۔
اپنے ازدواجی زندگی کے احوال بیان کرتی ہیں” اس وقت میں امریکہ سے منتقل ہو کر اسکندریہ میں رہتی ہوں اگرچہ مکان امریکہ میں بھی ہے ۔چار بیٹیاں ہیں ۔ہماری ازدواجی زندگی کے تقریبا 19 سال ہو گئے اور اس میں “فضیلہ “18 سال کی. “مریم” 17 سال، “روحینہ” 10 سال اور” ثنا” سات سال کی ہے. اس وقت سب سے بڑا مشکل مسئلہ ان لڑکیوں کی تعلیم کا ہے اس لیے کہ امریکہ میں لڑکیوں کی دینی تعلیم بہت مشکل کام ہے۔ تاہم میں نے ان کو دینی عربی اسلامی مدرسوں میں داخلہ کا ارادہ کر لیا ہے”
“سیدہ حلیمہ” اس وقت خواتین کو عربی تعلیم دینے کے لیے رات کو عربی مدرسے میں درس دیتی ہیں۔ انہوں نے عربی زبان کو اسلام میں داخل ہونے کا ذریعہ قرار دیا۔ اس لیے کہ اس وقت امریکہ میں مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لیے قرآن کریم کو سننے کی وجہ سے عربی زبان ؛تعلیم کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔
“سیدہ حلیمہ” نے مسلم خواتین کے ذمہ داریوں کو بتاتے ہوئے آج کے دور میں قرآن کے مطابق زندگی گزارنے کو واحد حل قرار دیا ہے ۔وہ ایسی زندگی گزاریں جس سے ان کے اقوال و افعال، گھر، خاندان ،سہیلی اور پڑوسیوں کے ساتھ برتاؤ میں قرآنی جمالیات نظر آئے۔ اور ان کا ہر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں ڈوبا ہوا ہو۔
“سیدہ حلیمہ” بتاتی ہیں میں نے جب اسلام قبول کیا تو میرے لیے سب سے بڑی اور پہلی مشکل یہ پیدا ہوئی کہ خاندان والوں نے مجھے الگ کر دیا اور طرح طرح کی مصیبتیں اٹھانی پڑیں۔ مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا خود ان کو احساس ہونے لگا کہ اسلام الفت و محبت اور سچائی کا دن ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ خاندان کے افراد مجھ سے ملنے پر خوش ہوتے ہیں اور بعض دفعہ مالی فائدہ بھی پہنچاتے ہیں جبکہ میں بھی ان کے درمیان مسلسل تبلیغ کر رہی ہوں (العالم الاسلامی مکۃ المکرمۃ20/_26/مئی1996ء)
(روشنی کی طرف صفحہ/67)