“أشهد أن لا اله الا الله وأشهد أن محمدا رسول الله رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد صلى الله عليه وسلم نبيا ورسولا ،برئت من كل دين يخالف دين الإسلام والإيمان وأشهد أن الإسلام هو الدين الحق”
( میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی اور رسول ہیں میں نے اللہ کو اپنا رب مان لیا اور اسلام کو اپنا دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا برحق اور سچا رسول اور نبی. میں ان تمام مذاہب اور ادیان سے بری ہوں جو دين اسلام کے مخالف ہو اور میں گواہی دیتی ہوں کہ اسلام ہی برحق دین ہے)
یہ وہ نور بھرے کلمات ہیں جن کو آمنہ نے جامعہ ازہر مصر کے دارالافتاء میں نہایت شوق اور طرب کے ساتھ ادا کیے اور دارالافتاء نے اس کا نیا اسلامی نام” آمنہ “تجویز کیا۔
“آمنہ “کی پیدائش مغربی جرمنی کے ایک بڑی آبادی والے شہر برلین میں 1946 عیسوی میں ہوئی. جہاں نہ صرف مسلمانوں کی اسلامی ثقافت و تہذیب غالب تھی بلکہ اس کا گھر مسلمانوں کے آبادی سے بالکل قریب تھا جس کے نتیجے میں اس کے تعلقات مسلم گھرانے کے خواتین سے ہو گئے ان کے ساتھ کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا بلکہ بسا اوقات ان کے ساتھ نماز اور روزے میں بھی شریک ہو جاتی. لیکن ان تعلقات کا علم ایک روز اس کے والدین کو ہو گیا اور انہوں نے پڑوسی کے یہاں آمد و رفت پر پابندی لگا دی۔
” آمنہ” اپنے والدین سے اس پابندی کی وجہ بار بار دریافت کرتی لیکن اس کا کوئی معقول جواب نہ ملتا .والدین کے اس رویے سے “آمنہ” کا اس مسلم پڑوسی کے تیئں لگاؤ میں شدت ہوتی چلی گئی۔ اور اپنی مسلم سہیلی “فاطمہ “سے اس قدر محبت ہو گئی کہ ایک لمحے کے لیے اس کے بغیر رہنا نہیں چاہتی اسی پابندی کے دوران اس پر یہ خبر بجلی بن کر گری کہ فاطمہ کے گھر والوں نے یہاں سے نقل مکانی کر لی ہے۔
“آمنہ” اپنے ایمانی سفر کی داستان بیان کرتی ہے” میری خواہش مزید انگڑائیاں لینے لگی کہ میں مسلم خواتین کے قریب رہوں حتی کہ میں اپنے کالج میں مسلم خواتین سے اسلام کے بارے میں اکثر بحث و مباحثہ کرتی اور جب میں نے کالج سے یونیورسٹی کی طرف اپنا تعلیمی سفر شروع کیا اس دوران اگرچہ میں نے بہت سے مسلم خواتین سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ رہنے کا موقع ملا مگر فاطمہ کے گھر والوں کے اخلاقوں کردار معاملات نے مجھ کو بہت زیادہ متاثر کیا اور اس طرح میرے دل میں جذبۂ ایمان موجیں مارنے لگا۔
” آمنہ” کہتی ہے میں نے” فاطمہ” کے گھر میں جس ایمان کو دیکھا ہے کاش تمام مسلمانوں کے گھروں میں دیکھنے کو ملے، اس کے خاندان کے معاملات، اخلاق و کردار اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن برتاؤ نے ہی مجھے اسلام کے قریب کیا ہے۔ فاطمہ کے گھر والوں نے زبان سے کبھی بھی مجھے ایمان لانے کو نہیں کہا لیکن ان لوگوں کا ہر ایک عمل داعئ اسلام تھا ۔میں نے اسے محسوس کیا اور فطرت سے سمجھوتہ کر لیا۔
“آمنہ” جو جرمنی میں بچوں کی مشہور ڈاکٹر بھی ہیں فخر سے کہتی ہیں ایمان لانے کے بعد اگرچہ مجھ پر مسائل آئے لیکن جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کے اپنوں اور دشمنوں کی طرف سے ہوئے مظالم کو پڑھا تو دل سرورو انبساط سے جھوم اٹھا کہ خدا نے کم از کم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دکھ میں کسی نہ کسی حد تک شریک کیا میں اس کے بعد مصائب کو اپنے لیے سعادتوں کا زینہ سمجھنے لگی۔
“آمنہ” اپنے ایمانی سفر کی ابتدائی حالات بیان کرتی ہیں ایک روز حسب معمول میں ڈسپنسری میں بیٹھی تھی کہ ایک مسلمان عورت اپنے ایک چھوٹے مریض بچے کے ساتھ داخل ہوئی اور رونے لگی اس کو دیکھتے ہی میرے دل میں اچانک دھڑکن محسوس ہوئی وہ لمحہ میرے لیے ایسا ثابت ہوا کہ اسلام کے تیئں میرے جذبات مزید نرم ہو گئے۔ وہ عورت اپنے بچے کے ساتھ بار بار میرے پاس آتی رہی نہ معلوم میرا دل کیوں تڑپنے لگا کہ اس عورت سے اسلام کے بارے میں بات کروں اور اسی کے سامنے اسلام کے تئیں جذبات کو ظاہر کر دوں۔ چنانچہ میں نے اس کو قرآن کریم کا جرمنی ترجمہ لے کر ایک روز تنہائی میں بلایا اور اس کے سامنے میں نے اسلام کو ظاہر کر دیا ۔اتنا سنتے ہی اس نے شدت انبساط سے کہا کہ جب سے میں نے تم کو دیکھا ہے تمہارے اخلاق، عادات و اطوار بالکل اسلامی محسوس ہوئے ،اسی دن سے تمہارے لیے خواہش پیدا ہوئی کہ تم ایمان لے آؤ اور اللہ نے ہمارے اس خواہش کو پوری کر دی، وہ عورت کون تھی؟ یہ وہی اس کی پڑوسی سہیلی فاطمہ تھی۔
“آمنہ” کہتی ہیں اس کے بعد فاطمہ میرے لیے اسلامی معلومات کا ذریعہ بن گئی. برلین اسلامی مرکز میں علمی محاضرات میں حاضری کا موقع ملا اور اس سلسلے میں میں نے جامعہ ازہر مصر کا سفر کیا اور وہاں کے دارالافتاء میں باضابطہ اسلام کا اعلان کر دیا۔
” آمنہ “اپنی داستان ان آرزووں اور تمناؤں کے ساتھ ختم کرتی ہے کہ: میری خواہش ہے کہ میری اولاد دین و اسلام کے داعی اور مبلغ بنے. میں خدا کا کن الفاظ میں شکر بجا لاؤں کہ اس نے نہ صرف اسلام کی دولت سے مالامال کیا بلکہ اس سال مجھے اور ہمارے شوہر دونوں کو فریضہ حج کی توفیق عطا فرمائی۔ جب ہم نے دیکھا کہ اس مقدس زمین میں معبود حقیقی کا بار بار نام لیا جا رہا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کااقرار کیا جا رہا ہے۔ توحید سے گونجتی اس پر فضا ماحول میں ہم نے بھی اس کلمہ توحید کو زبان سے پھر دہرایا جس کے ذریعے سے میں نے اپنے ایمانی سفر شروع کیا تھا ۔خدا سے دعا ہے کہ اللہ ایمان کے ساتھ ہی خاتمہ فرمائے آمین۔
(العالم الاسلامی مکۃ المکرمۃ)
(روشنی کی طرف صفحہ/73)