“أشهد أن لا إله الا الله وأشهد أن محمدا رسول الله”کسی انسان کے لیے کافی ہے کہ وہ ان کلمات کو زبان سے ادا کرے اور وہ اسلام کے دائرے میں داخل ہو جائے۔
اسی جذبے سے سرشار ہو کر جاپان سے “اکیلونا کومور” قاہرہ مصر کا سفر کیا تاکہ اسلام کے تئیں اپنے دیرینہ جذبات کا اعلان و اقرار کرے اگرچہ اس دوران اس نے مصر کا چار مرتبہ سفر کیا اور ہر دفعہ جاپان سے خواہش لے کر آئی کہ اب اپنے اسلام کا اعلان کر دیں گے مگر ہر دفعہ مصر میں جناب عبدالعزیز سے اسلام کی تعلیمات کے موضوع پر گفتگو کرتی اور واپس آجاتی لیکن چوتھی دفعہ جب اس نے قاہرہ کا سفر کیا ،تو اب وہ مزید اپنے اسلام کو چھپا نہ سکی اور اسلام کا اعلان کر دیا۔
“اکیلو نا کومورا “جو جاپان میں سرکاری ملازمہ کے حیثیت سے کام کرتی تھی اسلام کے تئیں اپنے ابتدائی جذبات کا اظہار کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے میں نے اپنی ملازمت کے دوران اسلام کے موضوع پر جاپانی زبان میں تین چار اسلامی کتابوں کا مطالعہ کیا اور تمام کتابوں میں اسلام کے اخلاق و کردار کا تصور، اس کی روحانیت ،عدل و انصاف، غریبوں اور فقیروں کے ساتھ حسن برتاؤ اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کے بارے میں تفصیل سے پڑھا اس کے بعد میں اس نتیجے تک پہنچی کہ اس دنیا اور دنیا کے عظیم نظام کے خالق سوائے اللہ کے کوئی نہیں ہے اور میرے ذہن و دماغ میں اللہ کی وحدانیت اس طرح رچ بس گئی گویا اس کے سوا میں کچھ جانتی ہی نہیں ہوں ۔
“اکیلونا کومورا” کے دل میں اسلام کے لیے کتنا عظیم مقام تھا اور اس کی جستجو میں اس نے کتنے مراحل طے کیے۔ اس کے بارے میں اس کے نئے شوہر” عبدالعزیز” جن کی شادی کے ابھی تین دن ہی گزرے ہیں۔ جنہوں نے” اکیلوناکو مورا” کے اسلام قبول کرنے میں نمایا کردار ادا کیا ہے اور خود “اکیلوناکومورا”آج تک جن کی ممنون ہے ،وہ کہتے ہیں۔
“اکیلونا کومورا”عجیب غریب فطرت کی لڑکی تھی ۔ مجھےہر لمحہ اس سےفطرت اسلام کی بو ملتی تھی۔ اکثر وہ قاہرہ آتی اور ہم سے اسلام کے بارے میں دیر تک باتیں کرتے رہتی اور ہر دفعہ میں اس کو اسلام کے موضوع پر کوئی کتاب دیتا۔ یہ سلسلہ ہمارے اور اس کے درمیان مدتوں جاری رہا۔ اب تک ہم دونوں محض اسلام کی بنیاد پر ایک دوسرے سے متعارف تھے ۔اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ اس کو اسلام پیش کروں اور اس کے بعد نکاح کے لیے اپنے آپ کو پیش کردوں ۔خدا کا شکر ہے کہ اس پیشکش کو اس نے نہیں ٹھکرایا بلکہ استقبال کیا اور ہم دونوں جامعہ ازہر شریف مصر کے دارالافتاء میں پہنچے۔اور پہلے تو اس نے اسلام کا اقرار اور اعلان کیا۔ اس کے بعد ہم دونوں رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔ اس رمضان سے ایک روز پہلے اس نے اپنا نیا اسلامی نام “نورا” تجویز کیا اب وہ “نورا” کے نام سے ہی جانی جاتی ہے۔ شادی کے بعد ہم دونوں نے ساتھ جاپان “نورا” کے وطن کا سفر کیا۔ وہاں کیا حالات درپیش آئے ا سے آپ “نورا “کی زبانی سنیے۔
“نورا” کہتی ہے جب ہم دونوں وطن “جاپان” واپس لوٹے تو اپنے خاندان کے کسی فرد سے کوئی مزاحمت محسوس نہیں ہوئی ۔لیکن ہماری بڑی بہن نے اعتراض ضرور کیا اس لیے کہ میں نے ان سے عمر میں چھوٹی ہونے کی باوجود پہلے شادی کر لی۔ پھر بعد میں بڑی بہن نے بھی موافقت کی. رہا عبدالعزیز کو میرے شوہر کی حیثیت سے خاندان کے لوگوں کا قبول کرنے کا مسئلہ تو اس میں بالکل دقت پیش نہیں آئی اور میں نے” نورا عبدالعزیز” کے حیثیت سے خاندان میں جگہ بنا لی فالحمدللہ علی ذلک۔
“نورا” کہتی ہے میرے اسلام قبول کرنے کے بعد فورًا رمضان المبارک کا مہینہ آگیا ۔مسلمانوں کے بارے میں پہلے سوچتی تھی کہ وہ دن بھر بغیر کھائے پیے کیسے رہتے ہیں ۔اور کس جذبے کے تحت بھوکے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں. سب سے زیادہ سخت روزہ کو ہی جانتی تھی۔ انہی حالات میں، میں نے رمضان کا پہلا روزہ رکھا اپنے شوہر عبدالعزیز کی رفاقت میں جب میں نے ایک روزہ پورا کیا تو محسوس ہوا مسلمان ظاہری طور پر بھوکے رہتے ہیں مگر باطن اللہ کے نور سے آسودہ رہتا ہے۔ خدا کا ایسا ہی فضل ہمارے اوپر بھی رہا اور دوسرے دن کے روزے کا شدت سے انتظار کرنے لگے۔ میں ان کیفیات کو تحریر میں نہیں لا سکتی جو رمضان کے پورے مہینے میں حاصل ہوئی ہیں، خدا سے دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالی مجھے اور مسلمانوں کو رمضان المبارک کا مہینہ بار بار عطا فرمائے۔
اخیر میں “نورا” جاپان میں اپنے اسلام کے بعد کی زندگی کے بارے میں بتاتی ہے کہ الحمدللہ جاپان میں ابھی میں مشکلات سے دوچار نہیں ہوں اکثر “ٹوکیو “میں واقع جامع مسجد اور مرکز اسلامی جاتی ہوں اور مستقل اسلام کے معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے قرآن کریم پڑھ رہی ہوں اس کے بعد کوشش کروں گی کہ عربی زبان سیکھوں ۔ نماز پابندی سے ادا کرتی ہوں بقیہ اسلامی عبادات و فرائض کی پابندی کی پوری کوشش کرتی ہوں اس وقت خود میرے شوہر عبدالعزیز جاپان میں ہیں ان سے مجھے بے حد مدد ملتی ہے۔ میں ان کو جاپان لے آئی ہوں تاکہ جاپانیوں کے طور طریقوں سے واقف ہوں۔ میں اپنی اس خواہش کے اظہار کے ساتھ جدا ہوتی ہوں کہ ان شاءاللہ جاپان میں ہم پوری کوشش کریں گے کہ اسلام کی تعلیمات مسلمانوں اور غیر مسلموں میں رائج ہو جائے اس لیے کہ ہم خدا کی مدد اور آپ لوگوں کی دعاؤں کے محتاج ہیں۔
(العالم الاسلامی مکۃ المکرمہ 23/29/اکتوبر 1995ء)
(روشنی کی طرف صفحہ/83)