آسٹریلیا کی” اوتاولیاس”نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک فلسطینی خاندان سے محض ملاقات کی بدولت اسے ایمان جیسی عظیم دولت مل جائے گی ۔
“اوتاولیاس”کہتی ہیں یہ حسین اتفاق اس وقت ہوا جب میں انجینیئر “حسین زید مصری فلسطینی “کے یہاں گئی. زید اصل مصر کے باشندے تھے مگر یہودیوں نے جب انہیں جلاوطن کیا تو اپنا ٹھکانہ فلسطین کو بنا لیا۔ انہوں نے میرا پرتپاک استقبال کیا ۔جبکہ اس سے پہلے کبھی ان سے ملاقات نہیں تھی۔ ہم دونوں کی گفتگو کے دوران عیسائیت اور اس کی سرگرمیوں کا موضوع آگیا ۔ابھی سلسلۂ کلام جاری ہی تھا کہ اچانک انجینیئر “زید” نے چند منٹوں کی اجازت چاہی اور جب وہ لوٹ کر آئے تو میں نے پوچھا کہاں گئے تھے ؟زید نے جواب دیا میں غسل کرنے گیا تھا. میں نے پوچھا کیوں ؟زید نے جواب دیا میں قرآن کریم کی تلاوت کرنے جا رہا ہوں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ میں پاک اور صاف ستھرا باوضو رہوں، میں اس عجیب و غریب اصطلاح اور تعبیر (وضو) سے حیرت میں پڑ گئی۔
“اوتاولیاس”کہتی ہے بس کیا تھا زید تلاوت میں اس طرح مشغول ہو گئے کہ ان کو یہ خبر نہیں کہ ارد گرد کون ہے؟ ان کے اس خشوع و خضوع کو دیکھ کر میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور میرے کان پوری طرح اس آواز کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اگرچہ مجھے کچھ پتہ بھی نہیں تھا کہ زید کیا کہہ رہے ہیں؟ لیکن ان کی خشوع و خضوع اور آداب تلاوت نے میرے قلب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اور میں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے اندر کسی طمانینت کا احساس کیا اور جب تک میں تلاوت کی استماع کرتی رہی، اپنے آپ کو بہت مطمئن پائی۔
” سلوی حسین “اسلام قبول کرنے کے بعد جس کا نیا اسلامی نام ہے. کہتی ہے ابھی زید تلاوت سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ ان کی اہلیہ آیات کے ترجمے اور معنی بیان کرنے لگیں۔ ترجمہ کے دوران معلوم ہوا کہ یہ سورۂ مریم ہے۔ جس کے اسلوب نے مجھے سننےپر مجبور کر دیا اور اسی حالت میں، میں زید کے گھر سے باہر نکل گئی۔ نکلتے ہوئے میں نے ان کی لائبری پر ایک طائرانہ نظر ڈالی تو دیکھا کہ اسلام کے متعلق انگریزی زبان میں کتابوں کا ایک قطار ہے۔ اسی میں سے ان کی اہلیہ نے مجھے قرآن کریم کا ایک انگریزی ترجمہ بھی ہدیہ میں دیا۔
مسیحیت سے اسلام تک کی داستان سفر میں “سلوی حسین” کہتی ہے اسلام لانے سے پہلے نصرانیت اور صہیونت سے متاثر “مور من” سے میرا تعلق تھا۔ اس کی تمام تر کوششیں اور سرگرمیاں اسلام، مسلمانوں اور عالم اسلام کے خلاف ہوتی ہے اور عربوں کو تو دیکھنا تک پسند نہیں کرتے. ان کا عقیدہ ہے کہ عرب وحشی اور بربر ہیں ۔اس لیے عربوں کو یا تو صفحۂ ہستی سے مٹا دو ،یا نصرانیت کی چادر اڑھا دو ۔نصرانی ان سرگرمیوں کے لیے باضابطہ ایک جگہ اکٹھا ہوتے ہیں اورنصرانی بنانے والا ہفتہ مناتے ہیں۔ اور اس کے تعلق سے ان پادریوں کے شاگرد اور تلامذہ اسلام مخالف سرگرمیوں میں رات دن مشغول رہتے ہیں۔
“سلوی حسین” مسیحیت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہتی ہے۔ تقریبًا میں 15 سال تک ان سر گرمیوں میں شریک رہی۔ یہاں تک کہ میں نے ایک روز اچانک سورہ مریم کی تلاوت سن لی اور اس کا ترجمہ پڑھ لیا اس وقت مجھ پر ظاہر ہوا کہ اللہ کے لیے بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟ اور کیوں حضرت عیسی ہمارے گناہوں کے کفارے کے لیے سولی پر چڑھ گئے ؟اور ایک گورے کو کالے پر کیوں فضیلت ہو سکتی ہے؟ اور کیا صرف اس وجہ اس فلسطینی کا قتل واجب ہے؟ کہ وہ مسلمان ہے ،عیسائیوں کی ان باطل نظریات و عقائد سے مجھے صرف نفرت ہی نہیں ہوئی بلکہ میں نے پورے یقین کے ساتھ اسلام قبول کر لیا اور گرجا گھر میں جا کر پادریوں کے سامنے میں نے اپنی اسلام کا اعلان بھی کر دیا۔
“سلوی حسین “مسکرا کر کہتی ہے میری اس جرأت پر پادری اور گرجا گھروں کے چودھری غصہ سے بوکھلا گئے۔ چونکہ میں نے اسلام کا اعلان گرجا گھر میں راہبات اور بڑے پادریوں کے ایک مجمع عام میں کر دیا تھا ۔اس لیے ان پر یہ خبر بجلی بن کر گئی۔ جس کے نتیجے میں طرح طرح کے دھمکیوں کا مجھے سامنا کرنا پڑا اور میرے گھر والوں اور خاندان نے میرا بائیکاٹ کر دیا۔ مگر میں نے ان کی قطعا پرواہ نہیں کی اور اسلام کے سمت؛ میں نے اپنے سفر کو مزید تیز کر دیا۔
“سلوی حسین “نہایت فخر و انبساط کے لہجے میں کہتی ہے اس کے بعد میں نے اسلام کی بنیادی معلومات کے لیے پانچ سال کا وقت لگایا اور اسلام مخالف عقائد کا مطالعہ کیا اور گرجا گھر میں اسلام کے اعلان کے بعد میں نے مرکز اسلامی میں اپنے اسلام کا اعلان کر دیا اور اپنا شعار خالص اسلامی بنا لیا اور علوم شرعیہ کی تحصیل میں مصروف ہو گئی۔ اس کے بعد اسلامی دعوت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا اور “جامعہ ازہر مصر “کا سفر کیا تاکہ دعوت و ارشاد اور علوم شرعیہ میں مزید کمال پیدا کروں اور وہاں سے سرٹیفیکیٹ حاصل کر لوں۔
اس وقت اسلامی معاشرے کو کن کن مشکلات کا سامنا ہے؟
اس کے جواب میں “سلوی حسین” کہتی ہے پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلامی امتیازات و آداب سے متصف ہو جائیں. سلوک و فعل دونوں میں۔ اس میں کسی طرح کی کوئی کمی نہ ہو اور سماج میں اسلام کا دل ،قلب اور عقل لے کر زندگی گزاریں۔ اس وقت سب سے پہلے اس کی ضرورت ہے۔ رہی مشکلات تو اگر مسلمان ٹھان لے کے اسلامی تشخصات کے ساتھ جینا ہے، تو دنیا کی کوئی طاقت بھی ان کو چیلنج نہیں کر سکتی۔
چونکہ آپ مغربی سماج میں زندگی گزار چکی ہیں تعداد زوجات کے بارے میں اور کیا سوچتے ہیں؟
“سلوا حسین” کہتی ہے صہیونیت کی عالمی تحریکیں اسلام کی کسی خوبی کو تسلیم نہیں کر سکتیں۔ بلکہ یورپ میں اس کی شبیہ بگاڑ کر تشریح کرتی ہیں۔ بھلا تعدد زوجات کو کیوں کر تسلیم کر سکتے ہیں؟
لیکن جب یورپ کی طرف ایک نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض ممالک اس کی حمایت میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ جیسا کہ” جرمنی” نے دوسرے جنگ عظیم کے بعد اس کی اجازت دے دی ہے ۔صرف اس لیے کہ ان لوگوں نے محسوس کیا کہ اگر سماج و ملک کو تباہی سے بچا سکتا ہے ،تو تعدد زوجات کا قانون واضح کرنا پڑے گا ۔یہ قانون خواتین کے لیے رحمت ہے اور سماج کو تباہی سے بچانے کے لیے واحد حل ہے۔
اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد آپ کی زندگی میں کیا فرق ہے؟
“سلوی حسین” کہتی ہے جیسے رات اور دن کا فرق .میں اندھیروں اور ظلمات میں زندگی بسر کر رہی تھی اور اب صاف ستھری فضا اور روشنی میں زندگی گزار رہی ہوں. بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ فطری زندگی گزار رہی ہوں ۔وذلك من فضل الله.
کیا عورت مردوں کے ساتھ زندگی کے دوڑ میں شامل ہو سکتی ہے؟
“سلوی حسین” کہتی ہے عورتوں نے آج اور اس سے پہلے بھی مردوں کے ساتھ ہر میدان میں سرگرم شرکت کی ہے۔ وہ اپنے شوہر کے لیے ایمان و اطاعت تقوی اور خیر کے سلسلے میں بہترین مددگار ہے۔ اسلامی سماج کی تشکیل میں عورتوں کا بڑا حصہ ہے بچوں کی تربیت خاندانی اساس کو اسلامی نہج پر قائم کرنا ۔اس کی فطرت ہے اگر گھر میں عورت بچوں کو اسلامی طرز پر تربیت نہ کرے ۔تو سماج انتشار کا شکار ہو سکتا ہے ۔میں دیکھتی ہوں کہ ایک عورت ماں کی حیثیت سے ایک مربیہ اور معلمہ بھی ہے اور یہ عمل اس کی خار جی مشغولیات سے بڑھ کر ہے اور اگر عورتوں کو باہر نکلنے پر مجبور ہونا پڑے ۔تب بھی ایک طویل وقت بچوں کے ساتھ گزارنا ضروری ہے۔ تاکہ ان کے ساتھ رہ کر ان کی تربیت کرے ان کو اسلامی عادات و اطوار سکھائے تاکہ ایک بہترین اسلامی لشکر کی تشکیل ہو جو قول اور فعل دونوں میں مسلمان ہو۔
البتہ ایک عورت پر لازم ہے کہ وہ صرف اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگار کرے۔ اس کے لیے زیب و زینت کرےنہ کہ دیگر اجنبی عورتوں کے سامنے بھی بن صنور کر جائے چہ جائے کہ اجنبی مردوں کے سامنے اپنی زینت کا اظہار کرے ۔یہ فاحشات کا شیوہ ہے۔ اسلام نے مسلمان عورتوں کے لیے بہترین قلعہ حجاب کو قرار دیا ہے ۔اس میں وہ زیادہ محفوظ رہ سکتی ہے۔ اس فلسفے کو میں نے اسلام کے بعد ہی سمجھا۔
(العالم الاسلامی مکۃ المکرمہ 25 _ 31 مارچ 1996 ء)
(روشنی کی طرف صفحہ/ 91)