عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہودی اور صیہونی سازشوں تحریک ارتداد کی تیز وتند ہواؤں اور اسلا م کی شبیہ بگاڑ نے کی کوششو ں کے بعد بھی آج پو ری دنیا میں اسلام کا مینار ۂ تو حید ورسالت اسی آب وتاب کے ساتھ جگمگا رہا ہے ۔جو 15 سو سال پہلے روشن ہوا تھا۔ جس سے ارتداد کی عالمی تحریکوں کی آنکھیں آج بھی اسلام کی پھیلتی ہوئی روشنی سےخیر ہ ہو رہی ہی۔ں اور ہر آنے والے دن میں ایک نئے صاحب ایمان کا اضافہ ہو رہا ہے۔ آج کی مادی اور ہر طرح کے وسائل کی دنیا میں خوش قسمت انسان ہی حلقہ بگوش اسلام ہو رہے ہیں ۔اللہ کا فضل اس کی بنیاد ہے۔ ایک مسیحی خاندان کے نو عمر چشم و چراغ کو بھی اللہ نے اپنی توفیق اور فضل سے نوازا ۔جس کے ایمانی سفر کی داستان کچھ اس طرح ہے “شریف محمد سعید” کا تعلق ایک مسیحی خاندان سے ہے. انہوں نے 22 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا. وہ کہتے ہیں 1987 ء میں، جب میں اپنے والد کے ساتھ “عمان” کے ایک شہر “روی “میں پہنچا .میرے والد وہاں کے ایک ہاسپٹل میں ملازم تھے اس دوران میں “عمان مسقط “کے مختلف شہروں میں سیر و تفریح کرتا رہا “شریف محمد “جن کانام اسلام قبول کرنے سے پہلے “شری پیلیس “تھا انہوں نے اپنے احوال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خلیج کے اس شہر میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ نشست و برخواست کھانے پینے اور دیگر معاملات میں نہایت صاف اور سچی محبت و الفت کو محسوس کیا اور مجھے اپنی اس چھوٹی عمر میں اپنے مسلم دوستوں کی طرف سے جو محبت اور الفت ملی اس سے میری پچھلی زندگی یکسر خالی تھی۔
جب کہ میرے ذہن میں مسلمانوں کی طرف سے نفرت اور تشدد کی تصویر ڈال دی گئی تھی لیکن جب میں نے واقع میں مسلمانوں کو اس نظریے سے بالکل مختلف پایا تو میرے ذہن و افکار میں طرح طرح کے سوالات ابھرنے لگے۔
“محمد شریف سعید “کہتے ہیں میں نے اس کے بعد ہی ہر ان کتابوں اور تحریر وں کو پڑھنا شروع کر دیا جو اسلام اور مسلمان کے موضوع پر لکھی گئی ہیں ۔جوں جوں میں نے اسلامی کتابوں کا مطالعہ کیا ۔میرے اوپر نئی دنیا واضح ہوتی چلی گئ۔ اس دوران میں ایک عجیب و غریب لذت اور چاشنی سے روشناس ہوا ۔تاآنکہ مجھ پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ ان تمام خوبیوں کا سرچشمہ دین اسلام ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے جذبات کو بیان کرتے ہوئے “شریف محمد” نے کہا ہے کہ ایمان کی دولت مل جانے کے بعد میری دنیا ہی بدل گئی ظاہری اور باطنی دونوں زندگیوں میں حیرت انگریز طور پر اعتماد اور سکون کی لذت سے، میں پہلی مرتبہ آشنا ہوا ۔وہ کہتے ہیں کہ اب میرے پاس واضح نظر یہ زندگی ہے اور وہ ہے اسلام ،جس کی روشنی سے ہی اب مستقبل میں میری منزل تک رہنمائی ہو گی۔ اللہ کا لاکھ لاکھ فضل و احسان ہے کہ اس نے مجھے بہت پہلے زندگی کے راز سے آشنا کر دیا ۔فالحمد للہ علی ذالک ۔
“شریف محمد” کہتے ہیں میرے والد شروع ہی سے مجھے آزاد زندگی گزارنے کا موقع دیتے رہے ہیں اس آزادی کے بدولت اسلام اور مسلمانوں کے قریب ہو کر میں نے اس کی حقانیت کو تسلیم کر لیا .البتہ میری والدہ شروع سے ہی اس معاملہ کو لے کر غم میں مبتلا رہی اور اکثر وہ میرے اسلام کے تئیں نرم رویے سے گھبراجا تی۔ لیکن جب میں نے اسلام کو قبول کر کے با ضابطہ اس کا اعلان کر دیا تو میری والدہ بجائے اس کے کہ وہ مجھ پر سختی بر تتی، یا گھر سے نکال دیتی ۔میرے مسلمان ہونے کو تسلیم کیا اور مجھے قبول کر کے اپنے ساتھ ہی رکھا یہ میرے لیے نہایت سعادت کی بات ہے۔
” شریف محمد” نے اپنے مستقبل کے بارے میں کہا ہے کہ میرے آئندہ عزائم میں اسلامی تعلیم کا حصول اور اس کی تکمیل ہے. میرا ارادہ ہے کہ میں اسلام کے بارے میں مکمل جانکاری حاصل کر لوں اور اسلام کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دوں. میں اللہ سے بار بار دعا کرتا ہوں کہ وہ میرے لیے اسلام کی پابند مسلمان، نیک، دیندار خاتون کا انتخاب فرمائے تاکہ میں اس کی مدد سے اپنا ایمانی سفر جاری رکھ سکوں۔
اسلام سے پہلے کی زندگی کے بارے میں “شریف محمد” کہتے ہیں میں “کیرلا” ہندوستان کے ایک گاؤں “ایرور” میں رہتا تھا وہاں قریب میں مسلمانوں کی کوئی آبادی نہیں تھی. البتہ دو مسلمانوں سے روزانہ ملاقات ہوتی رہتی ۔ایک جو روزانہ صبح” روز نامہ “اخبارات میرے یہاں لایا کرتا اور دوسرا اسکول میں میرا ایک کلاس فیلو دوست، لیکن دونوں میرے گاؤں سے دور رہتے تھے اس وجہ سے کبھی بھی ان سے اسلام کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں مل سکی.
مزید انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستان میں جب میں نے بار ہویں کلاس تک کی تعلیم مکمل کر لی تو پھر میں نے آگے کی تعلیم کے لیے کیرلا ہی کے ایک کالج میں داخلہ لے لیا اور اسی دوران اپنے والد کے ساتھ “مسقط” کا سفر کیا.
” شریف محمد” نے نہایت افسوس کہ ساتھ کہا کہ آج پوری دنیا میں عدم توازن پھیلا ہوا ہے .مسلمانوں سے ہر طرح کے امتیازات بڑھتے جا رہے ہیں ۔میں نے محسوس کیا کہ دنیا میں مال و دولت اور شہرت حاصل کرنا بہت آسان ہے۔ مگر سکون و راحت صرف سعادت ہی سے مل سکتی ہے۔ لوگ اسی راز کو بھلا بیٹھے ہیں۔ اس لیے وہ طرح طرح کے مسائل میں پریشان ہیں۔
اخیر میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ “ہر انسان فطرت اسلام پر یعنی مسلمان پیدا ہوتا ہے البتہ اس کے والدین یا تو اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں” اس کی صداقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں اگر پیدا ہونے والے ہر بچے کو والدین کے ماحول سے الگ کر دیا جائے تو سب سے پہلے اس کی فطرت اسلام کی طرف متوجہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی بغیر باپ کی پیدائش کے بعد سب سے پہلے انہوں نے اللہ ہی کو رب جانا۔ ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام نے اس کا اعلان کیا کہ عیسی کا رب ؛اللہ ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام نے تمام معجزات کو اللہ کی طرف ہی منسوب کیا. اس کے باوجود آج کے یہ نصاری اس سے غافل ہیں۔ یقینا مسیحی سخت گمرا ہی میں ہے۔
اپنی گفتگو ختم کرتے ہوئے “شریف محمد” نے اللہ سے اسلام پر استقامت کی توفیق مانگی ہے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے انہوں نے اپنے نیک جذبات کا اظہار کیا ہے.
(العالم الاسلامی مکۃ المکرمۃ)
(روشنی کی طرف صفحہ/104)