سفارت سے سعادت تک:جرمن سفیر(ویلفریڈ ہوفمان) کا اعلان اسلام
(جرمنی)

23 مارچ بروزپیر 1992ء جرمنی ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے لیے ایک یادگار دن ہے۔ تقریبا تمام روز ناموں کی سرخیوں میں ایک ہنگامہ تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اسلام کے خلاف نہایت تیز و تند آندھی چل پڑی ہے۔ یہ جرمنی کے ایک ممتاز،مشہور، مصنف جرمنی سفیر “ہوفمان” کے خلاف ہنگامہ تھا جو ان دنوں “مغرب” جرمنی کے سفیر مقرر تھے اور 1980ء میں انہوں نے اسلام قبول کر کے جرمنی کی ایوانوں میں ہلچل مچا دی تھی۔
جرمنی کے سب سے کثیر الاشاعت روزنامہ “دیر شبغیل “نے سب سے پہلے اپنی سرخی میں “ہوفمان “کو “سفير المانيا داعيۃ الاسلام”یعنی جرمنی کا سفیر اسلام کا داعی لکھ کر وہاں کے پارلیمنٹ میں بے چینی پیدا کی ۔اس خبر نے پورے یورپ کو چیلنج کر دیا. یہ سفیر موصوف” مراد ہوفمان “ہے جو پہلے “ویلفریڈ ہوفمان” کے نام سے مشہور تھے۔
مذکورہ روز نامہ کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ “ہوفمان” نے 1980ء کو ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس کی خبر اچانک 23 مارچ 1992ء کو اس لیے پھیلی کہ ایک روز جرمنی کے سفیر ہونے کی حیثیت سے، میں ان کے پاس انٹرویو لینے گیا جبکہ یہ انٹرویو ٹیلی ویژن میں بھی ٹیلی کاسٹ کیا جا رہاتھا ۔اس انٹرویو میں انہوں نے بہت جلد مارکیٹ میں ہلچل پیدا کرنے والی اپنی تصنیف “الاسلام کبدیل”کے بارے میں مجھے بتایا۔ جس میں انہوں نے اپنے اسلام قبول کرنے کی وجوہات کو نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس سنسنی خیز انکشاف سے میں بھی چونک گیا اور اس طرح صبح ہوتے ہوتے جرمنی کے سفیر کے اسلام قبول کرنے کی خبر پورے جرمنی میں آگ کی طرف پھیل گئی.
“ہوفمان” جرمنی وزارت خارجہ کے مختلف عہدوں میں 1961ء سے کام کرتے چلے آرہے ہیں جزائر، پیرس، برلین، بروسیل، مغرب و بلغراد میں جرمنی کے سفیر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ ایک ڈپلو میٹ ہونے کی حیثیت سے ان مختلف ممالک میں قیام اور عالم اسلام کی زیارت کرنے کی وجہ سے انہوں نے اسلام اور اس کی تہذیب و ثقافت کے بارے میں سیر حاصل معلومات فراہم کی۔ان دنوں قرآن کریم کا بھی انہوں نے مطالعہ کیا۔ ان طویل تجربات کی روشنی ہی میں انہوں نے “یومیات المانی مسلم “تصنیف فرمائی ۔اس کا ترجمہ ڈاکٹر” عباس عمادی” نے کیا اور” مرکز الاہرام” میں اسے 1992ء میں شائع کیا۔
“مراد ہوفمان” کہتے ہیں۔ میں نے اس کتاب میں اپنے نفس سے گفتگو کی ہے .اسی وجہ سے اس کا نام”حوار مع النفس”(نفس سے ایک انٹرویو) رکھا ہے. اس میں 1991ء (اسلام سے پہلے) کی میری زندگی کے احوال شامل ہیں۔ اس کا مقدمہ مشہور اسلامی کاتب “محمد اسد “نے لکھا ہے۔ انہوں نے کتاب کے مقدمے میں لکھا ہے.
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مغرب میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں ۔جس کی وجہ سے اسلام کے صاف و شفاف چہرے کو داغدار کر کے پیش کرتے ہیں ۔ان کے لیے یہ کتاب چیلنج ہے۔ یہ کتاب ان کے مکروہ چہرے کو خود آئینہ دکھاتی ہے۔ آج عیسائیت اپنے ہی راستے سے کس قدر منحرف ہے ۔خود اپنی شکل کو اس کتاب میں دیکھ سکتی ہے ۔بلاشبہ اسلام کے اشاعت و تبلیغ میں اس کتاب کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا (یومیات المانی مسلم صفحہ 14)
“مراد ہوفمان” کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ اس کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے (١) اسلام قبول کرنے سے پہلے کا مرحلہ (٢) اسلام قبول کرنے کے بعد کا مرحلہ۔

اسلام سے پہلے کا مرحلہ
“ہوفمان” کہتے ہیں اس مرحلے میں،میں نے وجواوراس کی حقیقت کے بارے میں گفتگوکی ہے ۔یہ اس وقت کی بات ہے جب میں یونین کالج جو نیویارک میں واقع ہے اس میں معاشیات کا طالب علم تھا ۔وہ خالص ایک تجرباتی موضوع ہے۔ اس سلسلے میں خوب مطالعہ کے بعد ہی میں کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرتا اس موضوع پر فلسفہ سے نہیں بلکہ انسان اپنے وسیع تجربہ کی روشنی میں ہی کام کر سکتا ہے۔
“ہوفمان” کہتے ہیں ان دنوں میں میرا ایک خطرناک ایکسیڈنٹ ہو گیا جس کے نتیجے میں میرے اوپر نیچے کے جبڑے دانت سمیت ٹوٹ گئے اور بائیں پسلی کی ہڈی اپنی جگہ سے ٹوٹ کر باہر نکل گئی اور دائیں ٹخنوں کے ہڈی بری طرح فریکچر ہو گئی لیکن حیرت ہے کہ اس حادثے سے میرا دل بالکل نہیں گھبرایا اور جب ڈاکٹروں نے میرا معائنہ کیا تو انہوں نے کہا میرے عزیز ! ایسے حادثے میں انسان کم ہی بچ پاتے ہیں ۔ایسا محسوس ہوتا ہے اللہ تعالی مستقبل میں تم سے کوئی بڑا کام ضرور لے گا ۔چنانچہ اس کے 29 سال بعد 20 ستمبر 1980ء کو میں نے اپنے اسلام کا اعلان کر کے ڈاکٹروں کے قول کی تصدیق کر دی۔
“ہو فمان” کہتے ہیں اسلام قبول کرنے کے بعد میرے جذبۂ تحقیق اور جستجونے قرآن کریم کے مطالعے پر مجبور کیا. اس وقت مجھے قرآن کریم کا ایک فرانسیسی ترجمہ ہاتھ لگا .اس کا بالاستیعاب مطالعہ کیا. میں نے محسوس کیا کہ کلام پاک حرف بہ حرف وحی الہی ہے اور آج بھی ملت اسلامیہ کی مکمل رہنمائی کر رہا ہے. اسی وجہ سے تمام کتب سماویہ میں صرف قرآن شریف تحریف سے پاک ہے. قرآن کی عظمت مسلمانوں کے نزدیک کیا ہے؟ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی کسی بھی آیت کو چھونے سے پہلے پاک ہونا اور باوضو ہونا ضروری ہے.
“ہوفمان” اپنی کتاب( یومیات صفحہ 28 )میں لکھتے ہیں:
قرآن کریم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر عربی زبان میں اس لیے نازل ہوئی کہ اس وقت عربی کے علاوہ دوسری زبان نہیں بولی جاتی تھی اور اس لیے کہ آپ عربی تھے ۔لہذا امت کو بشارت بھی عربی زبان میں دینا مقصود تھا البتہ مسلمان جو قرآن کریم کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کرتے ہیں ۔ا سے قرآن کو بدلنا یا تعریف کرنا نہیں کہیں گے اس لیے کہ تراجم؛ متن کا بدل نہیں ہے اسی وجہ سے قرآن کریم کے تراجم کو (معانی القران )کے ےنام سے شائع کرتے ہیں چنانچہ عربی کا متن جو قرآن کریم ہے۔ وہ لکھا جاتا ہے اور اس کے نیچے یا کنارے اس کا ترجمہ لکھا جاتا ہے۔
“ہوفمان “کہتے ہیں یوروپ میں بہت ساری مسجدوں اور مسلم عبارت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے .مسلمانوں کو ستایا گیا ہے اور مذہبی تعصب بر تاگیا ہے ۔مسلمانوں کے دور حکومت میں عیسائیوں کو مسلمانوں کی طرح مکمل آزادی حاصل تھی۔ اس کا اعتراف یوروپ نے کیا ہے ۔اس لیے عیسائیوں کے اس عمل کو میں سراسر دہشت گردی سمجھتا ہوں۔
اور میں نے جہاں تک اسپین کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے تو یہ حقیقت مجھ پر منکشف ہوئی کہ جب عیسائی اسپین کو غصب کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ تو انہوں نے وہاں پہلا کام مسجدوں کو منہدم کرنا شروع کیا مالقہ ،غرناطہ، اشبیلیہ حتی کہ قرطبہ میں قصر حمراء بھی محفوظ نہ رہ سکا۔
“ہوفمان “کہتے ہیں سینکڑوں مسجدوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ آپ ہی جا کر دیکھیں “بلغراد” میں ایک چھوٹی سی مسجد کے علاوہ کوئی بھی مسجد تخریب سے محفوظ نہیں رہ سکی۔ میں عیسائیوں کے قول و فعل کے تضاد پر افسوس کرتا ہوں اور ان کو چیلنج کرتا ہوں کہ مسلم مجاہدین کی تاریخ اٹھا کر دیکھو! انہوں نے نہ صرف یہ کہ یوروپ میں گرجا گھروں اور کلیساؤں کی حفاظت کی بلکہ اپنے دور حکومت میں گرجا گھروں کی تعمیر بھی ہونے دی۔( یومیات صفحہ 41 )
“ہوفمان” کہتے ہیں میں نے عیسائیوں کا تشدد بھی دیکھا اور مسلمانوں کے جذبۂ ہمدردی اور وسعت کو بھی دیکھا ۔میں نے محسوس کیا کہ اسلام کا سر چشمۂ قانون، اللہ کا کلام قرآن پاک اور احادیث نبویہ ہیں اور اقلیات کی حمایت میں اسلام کا نہایت جامع اصول بھی ہے ۔اللہ نے صاف فرمایا” لا اكراه في الدين”.
مجھے افسوس ہوتا ہے کہ عیسائیوں کے محرف اناجیل سے حضرت عیسی کی صرف افسانوی اور دیومالائی صورت سامنے آتی ہے۔ جبکہ حضرت عیسی مسلمانوں کے عقیدے میں نبی ہیں۔ قرآن شاہد ہے”والذي اوحينا اليك وما وصينا به ابراهيم وموسى وعيسى “(سورۃالشعراء/13)
تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے متعلق غلط نظریات مثلا ان کو معبود ماننا ،اللہ کا بیٹا ماننا، اور ثالث ثلاثہ کہنا یہ پولس کے زمانے میں رونما ہوئے ہیں۔
“ہوفمان” کہتے ہیں اس غیر مطمئن صورتحال میں بھلا میں اسلام کے حقانیت کو کیوں کر تسلیم نہیں کرتا؟ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان کیوں نہیں لاتا ؟اس لیے کہ انہوں نے جو کچھ بھی فرمایا وہ وحی الہی ہے. ان دلائل و براہین کے نتیجے میں حق کے سامنے سرنگوں ہو گیا اور “کولمبیا” میں واقع اسلامی مرکز میں شہادتین کا اقرار کر کے اسلام کا اعلان کر دیا اور اپنے لیے “مراد فرید” اسلامی نام منتخب کر لیا .وذلك من فضل الله.
اسلام قبول کرنے کے بعد کا مرحلہ
“ہوفمان” کہتے ہیں اسلام قبول کرنے کے بعد میری تمام تر توجہات اسلام کے دفاع اور مغرب میں اسلام کو اس کی اصلی صورت میں پیش کرنے میں صرف ہو رہی ہے۔اس موقع پر عالم اسلام کے مسلمانوں کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ پوری دنیا میں صرف عیسائیت ہی نہیں بلکہ مستشرقین اور یہودی لابی اسلام کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کے لیے مغربی ذرائع ابلاغ اور ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں اور اسلام کی شرعی بگاڑنے میں سب کے سب متحد ہیں۔
دوسری طرف “ہوفمان” اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے عام جلسوں، علمی محاضرات اور حلقوں کے علاوہ اسلام کے موضوع پروقیع تصنیفات کے ذریعے عالم اسلام سے داد تحسین حاصل کر رہے ہیں ۔انہوں نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں یورو پی اور مغربی معاشرے کو مخرب اخلاق قرار دیا ہے۔
“ہوفمان “کہتے ہیں اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے فریضۂ حج کی ادائیگی کی۔ اس وقت وزیر برائے امور جحاج کرام نے میرا نہایت پر استقبال کیا ۔میں نے حج کے ارکان کی ادائیگی کے دوران محسوس کیا کہ میرے تحت الشعور میں ایمان راسخ ہو گیا ہے۔ نماز میں صفوں کی برابری۔ رکوع و سجود میں پاؤں اور قدموں کے برابر ی اور لفظ “السلام علیکم” سے نماز سے نکلنے کی کیفیت سے ہمیں بہت محظوظ ہوتا رہا۔
اور جب میں نے نماز کے اندر “السلام علیکم” کو سنا تو میں نے محسوس کیا کہ یہودیت اور نصرانیت سے ماخوذ ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں بے ۔بےشک اسلام نے اگلی شریعت کو بھی مان لیا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نئی شریعت لیکرمبعوث نہیں ہوئے بلکہ آپ کی رسالت اللہ کے دین کو تام کرنے والی ہے۔
“ہوفمان” کہتے ہیں اپنی گفتگو کو مختصر کرتے ہوئے کہتے ہیں بے شک میری کتاب “یومیات المانی مسلم “عیسائیوں اور پادریوں کے لیے ایک کھلا درس ہے اور یہ ایک ایسی تصویر ہےجو تعصب، تنگ نظری اور ان تمام باطل نظریات سے پاک ہےجو کلیسا اور گرجا گھروں سے چلی آ رہی ہے اورصہیونیت اس پر سینکڑوں سال سے کاربند ہے۔ میں نے ان تمام اعتراضات کا علمی تحقیقی اور تاریخی جائزہ لیا ہے جس کا جی چاہے اس کو پرکھے۔
اور میں یہ دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی بھی عیسائی، یہودی اگر اس کتاب کو تنگ نظری سے بالا تر ہو کر پڑھے گاوہ یقینا اپنے باطل تواہمات سے نکل کر اسلام کی روشنی میں زندگی گزارنا پسند کرے گا جیسا کہ ہر آنے والے دن میں ایک صاحب ایمان کے اضافہ نے اس کی معقولیت کو ثابت کر دیا ہے۔
“الاسلام کبدیل”
“ہوفمان” کی یہ دوسری معرکۃ الاراء تصنیف ہے جس کو انہوں نے 1980ء میں اسلام قبول کرنے کے بعد تصنیف فرمائی ہے اور عالم اسلام سے دادتحسین حاصل کی ہے۔ یہ کتاب انہوں نے ان دنوں لکھی جب وہ مغرب میں جرمنی کی سفیر کے حیثیت سے معمور تھے ۔اس کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب ایک ہی وقت میں عربی جرمنی انگریزی زبانوں میں شائع ہوئی۔ کتاب کے مقدمے کو تحریر کرتے ہوئے تھوڑا “دکتورہ آناماری “نے جو عربی رسالہ” فکر فن” کے مدیرہ بھی ہیں۔ کہا ہے کہ فاضل مصنف نے اس کتاب کو لکھ کر مغرب کو صحیح اسلام سیکھنے کا موقع دیا ہے۔یقینًا اس سے اسلام کا صاف و شفاف چہرہ ساری دنیا کے سامنے آیا ہے۔ یہ علمی حتقیقی اور لسانیاتی ہر اعتبار سے گراں قدر اور وقیع تصنیف ہے۔
کتاب کے عنوان سے اس کا موضوع اور ہدف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے اسلام کو مغرب کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں اور اس سے پہلے بھی اسلام اور مغرب کے درمیان تعلقات رہے ہیں۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعثت کے بعد نجاشی ،ہرقل اور خسرو ثانی کو اسلام کی کھلے طور پر دعوت دی ہے۔ اسی عہد کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے بھی مغرب کو اپنا مخاطب بنایا ہے۔
“ہوفمان” نے اپنی کتاب “الاسلام کبدیل” کو 20 فصلوں میں تقسیم کیا ہے۔اور اس میں اسلام کی طرف سے مدافعت. اسلام کے بارے میں مغرب کے نظریات. دین کامل .اسلام اور فن .ایمان و مسلم، تصوف اور سماحت جیسے اہم عنوانات پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
عالم اسلام کے مفکرین نے “ہوفمان” کی دونوں تصنیفات کو اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے بہترین کتاب قراردیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ مغرب میں پھیلی اسلام کے خلاف بدگمانیوں کے سد باب کے لیے “ہوفمان” کی دونوں کتابیں اہم رول ادا کر رہی ہیں۔

(العالم الاسلامی مکۃ المکرمہ 3اکتوبر 1994ء)
(روشنی کی طرف صفحہ/96)