“سیرینادی بلوچ” بلجیم سے تعلق رکھتی ہے. اس وقت اس کی عمر 31 سال ہے. اپنے ملک “بلجیم “کے مختلف یونیورسٹیوں اور جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران 1990ء میں اس کی زندگی میں اچانک زبردست انقلاب آیا اور ایک دن “جامعہ ازہر شریف مصر” کے دارالافتاء میں جا کر نہایت خوشی و مسرت کے ساتھ “شیخ عبدالعظیم الحمیاس” کے سامنے اپنے اسلام کا اقرار و اعلان کر دیا. اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔
“سیر ینادی بلوچ” کہتی ہے یقینا آپ لوگوں کے ذہن میں یہ سوال بار بار پیدا ہو رہا ہوگا کہ میں نے کیوں اسلام قبول کیا؟ تو اس سے اس دنیا میں کسی کو انکار نہیں ہے کہ ہمارے مغربی معاشرے میں صنف نازک کو پوری آزادی حاصل ہے،مگر اس کے عوض ان کا وقار، عفت و عصمت، نسوانیت حتی کہ انسانیت کی چادر کو تار تار کر دیا ہے ۔روزانہ میں اس طرز معاشرت کے بارے میں سوچتی کہ یہ تہذیب جدید آخر عورتوں کو اس کی آزادی کے نام پر گمراہی کے کس گڑھے میں دھکیلنا چاہتی ہے۔ یہی وہ امور تھے جن کے بارے میں میں اپنی تعلیمی ایام میں سوچتی رہتی جب میں کافی پریشان ہوگئی تو اسلام کا مطالعہ شروع کیاکہ عورتوں کو اسلام نے کیا دیا ہے ؟اس کی عفت و عصمت کی حفاظت کے کیا اصول بنائے ہیں؟ جب میں نے پڑھا تو میں نے اپنے وجود کی حفاظت اسلام کے سائے میں ہی محسوس کیا۔ اس طرح ہم نے اسلام کی طہارت وپاکیزگی کے ذریعے سے اپنا دل دھو ڈالا اور میں مسلمان ہو گئی ۔
“سیرینادی بلوچ” بتاتی ہے 1990ء کے ابتدائی ایام میری زندگی کی ایک عظیم یادگار ہے۔ انہی دنوں ہم نے اسلام قبول کرنے کا عزم کر لیا تھا ۔اسلام کے بارے میں کافی بحث و مباحثہ کے بعد اس نتیجے تک پہنچی کہ اسلام کا کوئی بدل نہیں ہے۔ خدا کا فضل ہے کہ اس نے مجھے گمراہی کے دلدل سے نکال کر روشنی عطا کی۔ اب میں اس نعمت کو دنیا کی سب سے بڑی دولت سمجھتی ہوں۔
میں “بلجیم “میں مسلمان کس طرح ہوئی؟ اس سلسلے میں صاف طور پر بتا دینا چاہتی ہوں کہ” بلجیم “میں مجھے کوئی ایسا مسلمان نہیں ملا جو میری اس سلسلے میں مدد کرتا اس لیے کہ اسلام کی صورت ہمارے ہاں بالکل بگڑی ہوئی ہے۔ یہاں تک “بلجیم” میں واقع اسلامی مرکز سے بھی مجھے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا اس لیے کہ وہاں کے بارے میں، میں نے سن رکھا تھا کہ وہاں عورتوں کا کوئی استقبال نہیں کرتا ہے۔ اسلام کی بنیادی معلومات ہمیں تو اس ہالینڈی تفسیر سے حاصل ہوئی جس کو ہم نے کسی ہالینڈی مسلمان سے حاصل کیا تھا جب میں نے اس کا مطالعہ شروع کیا تو محسوس ہونے لگا کہ میں دوسری دنیا کی طرف داخل ہو رہی ہوں۔ قرآن کریم کی سورہ بقرہ نے میرے دل و دماغ کی گرہیں کھول کر رکھ دی ۔اس لیے کہ اس سے تاریخ بشریت اور حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی۔ یہودی اور بنی اسرائیل کو اللہ نے کن کن نعمتوں سے سرفراز فرمایا تھا اور اس کے عوض ان کی سرکشی اور طغیانی کی وضاحت ہے ۔میرے ذہن میں بار بار سوالات پیدا ہوئے کہ آخر یہ کونسی کتاب ہے ؟اس نے پچھلی پرانی تاریخ کو بیان کر دیا ہے۔
نیز اس قرآن کریم کی تفسیر کے مطالعے کے دوران عورتوں کے مسائل، ان کی اہمیت، ان کی عفت و عصمت کی حفاظت کے بارے میں اسلام نے جو نقطۂ نظر پیش کیا ہے یہاں آکر میں مجبور ہو گئی کہ یہ کلام یقینا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ بلا شبہ یہ اللہ کا کلام ہے جو انسانوں کی ہدایت کے لیے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ہے۔
” سیرینا دی بلوچ” سے جب “بلجیم” میں مسلمان عورتوں کے احوال کے بارے میں پوچھا گیا اس نے جواب دیا، وہاں اکثر عورتیں مغرب اور ترکی کی ہیں’ سب کی سب پردہ کرتی ہیں وہ اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلتی ہیں اور نہ باہر کوئی کام کرتی ہے صرف مرد ہی کام کرتا ہے اور اس کی وجہ پردہ ہے اس لیے “بلجیم “میں نقاب پوش کا کوئی کام کرنا ممنوع ہے ۔جب کوئی مسلمان عورت گھر سے باہر کوئی کام کرنے کے لیے نکلنا ہی چاہتی ہے تو بے پردہ ہونے کے سوا اس کے سامنے کوئی چارہ نہیں ہے۔
جب” سیر ینادی بلوچ “سے خود اس کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا آپ پردہ سے راضی اور خوش ہیں؟ یہ سنتے ہی نہایت غصے میں بولی یہ سوال ا؟پ کسی غیر مسلم لڑکی سے کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا. میں تو الحمدللہ مسلمان ہوں اور میں نے اسلام پر مکمل رضامندی اور سپردگی کا اقرار اعلان کر دیا ہے۔ میں نے اسلام کو اس کے اصول اور اس کے تمام جزئیات کے ساتھ قبول کیا ہے۔ اس کے بعد کوئی وجہ نہیں رہ جاتی کہ میں بے پردہ رہوں۔ میں حجاب کو خدا کا حکم مانتی ہوں۔ جس پر عمل کرنا فرض سمجھتی ہوں۔ اس میں میری رائے کا کیا دخل ہو سکتا ہے؟ اس لیے کہ برقعہ اور پردہ ایک خوبصورت چیز ہے جو عورت کو باطن سے سنوارتی ہے اور گناہوں سے دور رکھتی ہے اور سراسر عفت و طہارت ہے مجھے کیا کسی بھی عورت کو اس سے انکار نہیں ہونا چاہیے۔
“سیر ینادی بلوچ “کہتی ہے جب میں جامعہ ازہر مصر گئی اور دارالافتاء میں بیٹھی اس وقت میں نے ایسی خوشی اور حلاوت محسوس کی جسے میں نے اپنی زندگی میں کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ بار بار احساس ہو رہا تھا کہ آج میں نے اپنی بہت قیمتی کھوئی دولت کو پا لیا ہے۔ قاہرہ کو جب سے میں نے دیکھا ہے دل چاہتا ہے کہ وہیں بقیہ ایام قیام کروں اور پاک باز مسلمانوں کے درمیان زندگی گزاروں۔
جب اس سے پوچھا گیا کہ آپ کے اسلام کے بارے میں آپ کے خاندان کا کیا رد عمل ہے؟ وہ کہتی ہے میری زندگی میں مشکلات آنے کا امکان ہے. اور مشکلات آئیں بھی لیکن میں پوری امید کرتی ہوں کہ ایک نہ ایک دن وہ تمام لوگ مجھ سے راضی ہو جائیں گے ۔خواہ اسلام قبول کریں یا نہ کریں۔ میں اپنے خاندان کی ہدایت کے لیے دعا کرتی ہوں۔
” سیر ینادی بلوچ “نے اپنی خواہش کا ذکر کرتے ہوئے تمنا ظاہر کی ہے کہ عربی زبان سیکھ لوں تاکہ قرآن کریم کو اسی لغت اور زبان میں حفظ کر سکوں جس لغت میں وہ نازل ہوا ہے اور تاکہ اسلامی تعلیمات کو مکمل طور پر اور نمازوں کے مسائل کو اچھی طرح جان سکوں۔ اخیر میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ مجھے اپنی ہدایت پر قائم رکھے آمین۔
(العالم الاسلامی مکۃ المکرمہ 24 اپریل-یکم مئی 1990ء)
(روشنی کی طرف صفحہ /111)