“زید عبدالسلام” امریکہ کے شہر “نیوجرسی “کے رہنے والے ہیں۔ مسیحی نام “رو بنٹ ٹامسن” ہے انہوں نے پچھلے دنوں امریکہ ہی میں اسلام کو قبول کیا .وہ اپنی دلچسپ داستانِ سفر اس طرح بیان کرتے ہیں۔
ایک روز شہر “نیو جرسی” امریکہ کی مسجد “دارالسلام” میں میں نے ایک امریکی بھائی کو نہایت خوش و خضوع کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھا اور نماز میں قرآن کی نہایت رقت آمیز لہجے میں تلاوت کر رہے تھے ۔آواز نہ زیادہ بلند تھی نہ زیادہ پست، نماز سے فراغت کے بعد میں ان کے پاس بیٹھ گیا اور میں نے اپنا مختصر تعارف کرایا۔
گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے میں نے کہا میرا نام” زید عبدالسلام “ہے اور اس وقت میرا مشغلہ “مدرسۃ الغزالی الاسلامیہ “تک سواری کے ذریعے بچوں کو روزانہ پہنچانا ہے اور اس وقت میری عمر57سال کی ہے۔
تو کیا آپ کا تعلق مسلمان خاندان سے ہے ؟یعنی آپ نے اسلام قبول کیا یا آپ نے اپنے آباواجداد سے اسلام کو پایا ؟ (اس شخص نے سوال کیا)
اس سوال کے جواب میں “زید عبدالسلام ” کہتے ہیں میں خاندان اعتبار سے مسلمان نہیں بلکہ مسیحی تھا۔ اللہ نے مجھے ایمان کی توفیق دی اور میں مسلمان ہو گیا اللہ کا شکر بجا لاتا ہوں کہ اس نے مجھے ایمان کی روشنی عطا فرمائی۔
“زیدعبد السلام” کہتے ہیں دراصل میری ایک بہن ہے جس کو مجھ سے پہلے ہی اللہ نے ایمان کی دولت سے نوازا، اور وہی میرے اسلام قبول کرنے کی وجہ بنی۔ اکثر وہ اسلام کے بارے میں مجھے بتلاتی اور ان کی خوبیوں کو بار بار میرے پاس دہراتی، اس کے بعد اس نے مجھے چند کتابیں دی جس کے ذریعے مجھے مزید اسلام کو سمجھنے میں مدد ملی اور میں نے بغیر تأمل اور خوف کے اسلام قبول کر لیا۔
اور میری بہن “سکینہ” کی کوششوں سے ہی میری والدہ نے بھی اسلام قبول کر لیا البتہ میرے والد اسلام سے محروم رہے اور عیسائیت ہی میں دنیا سے رخصت ہوئے۔
“زید عبدالسلام” کہتے ہیں الحمدللہ میری بیوی نےشادی سے پہلے ہی 1973ء میں اسلام قبول کر لیاتھا جبکہ میں 1975ء میں مسلمان ہوا اور میری شادی 1982ء میں ہوئی۔ الحمدللہ اس وقت میری تمام اولاد مسلم ہیں۔ نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور ہم اس کوشش میں ہیں کہ ہمارے بچے قرآن شریف ترتیل کے ساتھ پڑھیں اور ان کی تعلیم و تربیت اسلامی ماحول میں ہو۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اس تمنا کو پوری فرمائے ۔آمِین ۔
آپ کا شعور اسلام کے لیے کیوں بیدار ہوا ؟اس کی وجوہات کیا ہیں؟ زید کہتے ہیں کہ اسلام کے عدل و مساوات اخوت و ہمدردی اور تسامح نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا .کسی کو حیرت واستعجاب میں نہیں پڑھنا چاہیے جب میں یہ کہوں کہ میں اپنے اندر آدمیت کو اسلام قبول کرنے کے بعد ہی محسوس کیا۔ اب امریکہ ہی میں دیکھیں کہ وہاں ہم کالوں کی زندگی اجیرن ہے ۔صرف اس لیے کہ ہمارا رنگ کالا ہے ۔لیکن قربان جائیے اسلام پر جس نے اس جاہلی تفریق کو مٹایا اور انسانیت کے صف میں کالا ،گورا ،عرب، عجم سب کو ایک ساتھ کھڑا کیا اور میں نے محسوس کیا کہ کنگھی کے دانے کی طرح سب انسان برابر ہیں ۔اسلام کی یہ وہ اعلی ممیزات ہیں۔جن کی وجہ سے میں اسلام کے قریب سے قریب تر ہو گیا۔ اللہ قیامت تک مجھے اسی حال میں رکھے اور اسلام کی حالت ہی میں دنیا سے لے جائے۔ آمین۔
کیا آپ نے اسلامی احساسات سے اپنے امریکی دوستوں کو روشناس کرایا؟.
“زید عبدالسلام” کہتے ہیں ۔ہاں میرے پاس ایک چھوٹا سا کتابچہ ہے جس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے اسلام قبول کیا ۔اس کے علاوہ میں اسلامی مراکز و مساجد میں شرکت کرتا ہوں اور غیر مسلموں کے سامنے اسلام پیش کرتا ہوں۔
اور اب پچھلے دنوں سے بنیادی اسلامی معلومات پر مشتمل انگریزی میں چھوٹے چھوٹے کتابچے کی طبع اور اشاعت پہ مصروف ہوں ۔جن میں نماز، روزہ وضو و طہارت کے علاوہ امریکی دوستوں کی طرف سے اسلام کے خلاف اعتراضات کے مدلل جوابات بھی موجود ہیں۔
“زید “مزید کہتے ہیں ہندو پاک میں مسلمانوں کے احوال جاننے کے لیے ،میں نے ان دونوں ملکوں کے تین تین اسفار کیے۔ الحمدللہ مجھے ان اسفار سے خوب خوب فائدہ ہوا۔یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر میرے دوست انہی دو ملکوں میں ہے اگرچہ دوسرے اسلامی ممالک میں بھی میرے دوست موجود ہیں اور مجھے اس پر فخر ہے۔
اس موقع پر میں اپنی تمنا کا اظہار کرتا ہوں اور اللہ سے ہمیشہ دعا کرتا ہوں کہ وہ اس کی تکمیل فرمائے ۔میں چاہتا ہوں کہ دنیا مجھ سے ایک بڑی تعداد میں اسلام کو سمجھے اور اس کو قبول کرے اور اس کے لیے میں ہمیشہ کوشش کرتا رہتا ہوں یہی وجہ ہے کہ میرے غیر مسلم دوست جہاں جہاں بھی ہیں خواہ وہ دیہات میں ہو یا شہروں میں، ان تک اسلام کے پیغام پہنچاتا ہوں اور الحمدللہ ان میں سے بعض دوستوں کو ہدایت بھی نصیب ہوئی۔ اور آج وہ ایمان کی دولت سے مالا مال ہے۔
اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ کا نام کیا تھا ؟
“زید” مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہیں ،میں یہ نہیں چاہتا کہ اسلام سے پہلے کا نام آپ کو بتاؤں لیکن کوئی حرج نہیں۔ میرا مسیحی نام” روبنٹ ٹامسن” تھا اور آگے کیا تھا میں بھول گیا۔
کیا آپ نے پاکستان کے علاوہ دوسرے کسی اسلامی ملک کی زیارت ؟
نہایت خوشی اور طرب کے ساتھ کہتے ہیں۔ الحمدللہ میں نے پوری دنیا کے سب سے پاک اور مبارک سرزمین مکہ مکرمہ کی زیارت کی، یہ تقریباآج سے چار سال پہلے کی بات ہے جب رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے دعوت پر فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے ،بیت اللہ شریف کی زیارت کا موقع ملا تھا ۔میں نے جتنے دنوں مکہ مکرمہ میں قیام کیاوہ میری زندگی کی سعادت ترین ایام تھے ۔اسلام قبول کرنے کے بعد میری پہلی خواہش تھی کہ مسجد حرام اور مسجد نبوی کی زیارت کروں سو اللہ نے میری دعا سنی اور اس بیش بہا نعمت سے میں سرفراز ہوا۔
میں نے حج کے دوران محسوس کیا کہ پوری دنیا کے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں۔ کسی امیر کو فقیر پر فضیلت نہیں ۔فضیلت کی بنیاد صرف تقوی اور ایمان ہے ۔میں نے وہاں محسوس کیا تو میں دوسرا انسان ہوں جو اپنے ایمان کی وجہ سے طاقتور ہوں۔ مجھے اپنا اسلام عزیز ہے۔ مجھے اپنے کالے رنگ پر فخر ہے۔
“زید عبدالسلام ” اپنی گفتگو کو ختم کرتے ہوئے آخری تمنا کا اظہار کرتے ہیں۔
میری بیوی تقریبا آٹھ ماہ سے حاملہ سے ہے ۔اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے ایک لڑکا عنایت فرمائے جو پوری دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کے کلمے کو بلند کرے اور میرے بعد اسلام کی خدمت کرتا رہے اور اسی وظیفہ پر آخری عمر تک گامزن رہے۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ آر کیٹیکٹ ،انجینیئر یا ڈاکٹر بنے۔ میں چاہتا ہوں کہ دنیا اور مادیات سے میرا ہونے والا لڑکا دور رہے۔
اتنا کہتے ہوئے زید مسکرانے لگے اور کہا ان شاءاللہ مکہ مکرمہ میں ضرور ملاقات ہوگی ۔
اخیر میں انہوں نے پوری دنیا کے مسلم مرد وعورت سے درخواست کی ہے کہ وہ اسلامی نظام عدل و مساوات کو اپنی زندگی کا عنوان بنائے اور مغرب کے طرز عمل سے بیزاری کا اظہار کریں۔
(العالم الاسلامي مكۃ المكرمۃ 16- 22 ستمبر 1996ء)
(روشنی کی طرف ص/115)