جیمس اور عفیفہ کا اعلان اسلام
جمیس ورڈ(کناڈا)
عفیفہ رشدی(مصر)

“جیمس ورڈ” کا تعلق “کناڈا”سے ہے. ان دنوں وہ امریکہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔ پچھلے دنوں اچانک انہوں نے “قاہرہ” مصر میں واقع” جامعہ ازہر شریف” کا سفر کر کے وہاں کے دارالافتاء میں اپنے دیر ینہ جذبات یعنی اپنے اسلام کے اعلان و اقرار کے ذریعہ امریکہ یونیورسٹی میں ایک ہلچل پیدا کر دی.
” جیمس ورڈ “کہتے ہیں جب میں امریکہ یونیورسٹی میں داخل ہوا اسی وقت مجھے مسلمان احباب مل گئے اکثر نشتوں میں وہ ہم سے اسلام کے بارے میں گفتگو کرتے اور بارہا ان محسنوں نے مجھے اسلامی کتابوں کے مطالعہ کے لیےکہا. اس سے میرے اندر تجسس جاگ اٹھا اور قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ کا مطالعہ شروع کر دیا ۔اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ مبارکہ (جو انگریزی زبان میں تھیں) کا مطالعہ شروع کر دیا. مطالعہ کے دوران ہی اسلام کی حقانیت میرے اندر اترنے لگی. میں نے محسوس کیا کہ اسلام ہی وہ دین ہے جو لوگوں کو گمراہی اور اندھیروں سے نجات دلاتا ہے. دین اور مذہب کا تصور بالغ میں نے صرف اسلام میں ہی محسوس کیا ۔
“جیمس ورڈ” یونیورسٹی کے ایام کی مشغولیات کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں جب سے اسلام کی تئیں میرے احساسات جاگے، اکثر میں اسلام اور اس کی تعلیمات کے مرکز و مصدر کے بارے میں جستجو اور تلاش میں رہتا اسی جذبے نے مجھے دو سال “قاہرہ “میں قیام کرنے پر مجبور کیا تاکہ اسلام کی مباد یا ت پورے طور پر جان لوں. اب الحمدللہ اسلام کے بارے میں اتنی معلومات فراہم ہو گئی ہیں کہ میں اچھی طرح سے اپنی مدا فعت کر لوں گا اور خدا کا ہزار شکر ہے کہ اپنے اسلام کی وجہ سے مجھے “کناڈا” میں کسی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا. کناڈا میں مذہب و دین کے بارے میں ہر آدمی پور ی آزادی رکھتا ہے.
“جیمس ورڈ” سے ان کی ماضی کی زندگی کے احوال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا اسلام سے پہلے میری مثال اس شخص کی سی تھی جو ایک اندھیرے راستے میں نکل گیاہو. اور اس کے ساتھ کسی طرح کے روشنی نہیں ہو کبھی ادھر کبھی ادھر بھٹکتا پھرتا ہو، خدا کا کن الفاظ میں شکر ادا کروں کہ اللہ نے اس خطرناک اندھیرے راستے میں روشنی عطا فرمائی اور میرے ارد گرد ایمان کے نور سے منور ہواٹھے۔ اسی روشنی کی بدولت میں صراط مستقیم کی طرف گامزن ہو گیا ۔فالحمدللہ۔
اخیر میں انہوں نے اپنی خواہشات کا ذکر کرتے ہوئے پوری دنیا کے مسلمانوں سے درخواست کی ہے کہ اسلامی اخلاق و کردار کے پابند ہو جائیں اور پوری دنیا کے لیے مثال بن جائیں۔ صرف معاملات میں ہی نہیں بلکہ پورے نظام حیات میں اسی جذبے سے سرشار ہو کر زا ویۃ الحمراء میں مصر سے “عفیفہ رشدی” نے دارالافتاء جامعہ ازہر کا سفر کیا. وہ کہتی ہے میں نے اسلام کی وجہ سے گھر خاندان حتی کہ اپنی اولاد تک کو چھوڑ دیا. جب میں نے محسوس کیا کہ اسلام عقلی طور پر بھی سب سے صحیح دین ہے. اس کے علاوہ گمراہی اور شیطان کا دین ہے. میں اکثر ٹیلیویزن دیکھا کرتی تھی اس میں ،میں نے قرآن کریم، احادیث رسول کو بکثرت سنا اور قاہرہ ذرا ئع ابلاغ کے اسلام کی بنیادی معلومات بھی فراہم ہوئی۔ اسی دوران مجھ پر اسلام کی پوری صورت واضح ہو گئی اور میں نے اس کے اعلان و اقرار کا عزم مصمم کر لیا ۔
“عفیفہ رشدی “کہتی ہے اسلام کے اعلان میں میرا مسیحی شوہر رکاوٹ بن گیا اور اس نے نہایت سختی سے اس سے روکا لیکن میں نے اسلام کے اعلان پر اصرار کر دیا میرے شوہر نے اس کی دھمکی دی کہ تمہاری اولاد کو تم سے الگ کر دوں گا. میں نے اس کو قبول کر لیا اور اسلام کا اعلان کر دیا اور اب الحمدللہ میں نے ایک مسلمان سے شادی کر لی ہے. وہ میرے ساتھ احسان و اخلاق اور سماحت کا برتاؤ کرتا ہے.
“عفیفہ رشدی” کہتی ہے دارالافتاء میں سب سے پہلا جو معاہدہ لیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ فرائض کی پوری طرح ادائیگی کروں. چنانچہ اس سال میں نے رمضان کے روزے رکھنے کا عزم کیا ہے. اللہ تعالی اس کی توفیق عطا فرمائے. آمین .
اخیر میں” عفیفہ رشدی” نے اپنی خواہشات کا ذکر کرتے ہوئے تمنا ظاہر کی ہے کہ اللہ تعالی اپنے گھر بیت الحرام کی توفیق عطا فرمائے. ہمیں امید ہے کہ جس اللہ نے ہمیں ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا وہی اللہ ایک دن اپنے گھر بھی بلائے گا. ان شاء اللہ تعالی۔
(العالم الاسلامی مکۃ المکرمۃ 23/29/اکتوبر 1992ء)
(روشنی کی طرف ص/108)