فلپائن کی پروفیسر مشہور راہبہ “میری واٹس” کا اعلان اسلام
(فلپائن)

مشہور عیسائی مبلغہ، راہبہ اور فلپائن یونیورسٹی کے شعبہ دینیات کی پروفیسر “میری واٹس“ نے پچھلے دنوں اسلام قبول کر کے اپنا نیا اسلام نام ” خدیجہ “ پسند کر لیا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد وہ کہتی ہیں۔ اسلام کی نعمت مل جانے پر میں اپنے دل کی گہرائیوں سے اللہ کی تعریف و تقدیس بیان کرتی ہوں۔ ابھی کچھ دیر پہلے میرا نام ”میری “ تھا اور اب میرا نام “خدیجہ “ ہو گیا ہے۔ اپنی شخصیت پر فخر کر رہی ہوں۔ اس وقت میرے فلپائنی شوہر سے میرے سات لڑکے اور لڑکیاں ہیں۔ میری پیدائش امریکہ کے ایک صوبہ ” اوہایو” میں ہوئی۔ البتہ میں نے زندگی کے اکثر حصہ کو لاس اینجلس اور فلپائن میں گذاری۔

آپ نے عیسائیت میں جو زندگی گزاری ہے ذرا اس کی تفصیلات بتائیں!
“خدیجہ” کہتی ہیں۔ میرے پاس تین علمی ڈگریاں ہیں۔ امریکہ یونیورسٹی میں تین سال کی علمی لیاقت، فلپائن یونیورسٹی سے دینیات میں پی ایچ ڈی اور دو یونیورسٹیوں میں دینیات کی پروفیسرہ چکی ہوں۔ اس کے علاوہ میں راہبہ اور عیسائی مبلغہ کی حیثیت سے ایک زمانہ تک کام کر چکی ہوں۔ اسی طرح مسیحی وعظ وارشاد کے لئے میں نے عیسائی ریڈیو اسٹیشن میں کام کیا ہے۔ بلکہ ٹیلی ویژن میں بھی عیسائیت کی تبلیغ کر چکی ہوں۔ اس کے علاوہ اسلام قبول کرنے سے پہلے اسلام کے خلاف مضامین اور مقالات بھی میں نے لکھے ہیں۔ اس لئے کہ میں نہایت متعصب عیسائی تھی۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس عمل کو معاف فرمائے ۔

آپ اچانک عیسائی مبلغہ سے اسلام کی داعیہ کیسے بن گئیں ؟
“خدیجہ” کہتی ہیں۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں فلپائن میں عیسائی سرگرمیوں اور اس سلسلے میں لکچرز کے لئے فلپائن کا دورہ کر رہی تھی۔ اچانک میری ملاقات سعودی عرب سے تشریف لائے ایک فلپائنی لکچر رسےہو گئی۔ میں نے ان کے اندر عجیب و غریب چیزیں محسوس کیں۔ پھر یہ انکشاف ہوا کہ انھوں نے پچھلے دنوں ہی اسلام قبول کیا ہے۔ اگر چہ ان کے اسلام کی شہرت عیسائیوں میں اس وقت تک نہیں پھیلی تھی۔

“خدیجہ” کہتی ہیں۔ اس فلپائنی لکچرر کے قبول اسلام سے میرے اندر طرح طرح کے سوالات پیدا ہونے لگے۔ اس نے اسلام کیوں قبول کیا ہے ؟ اپنے دین سے کیوں منحرف ہو گیا؟ وغیرہ وغیرہ۔ پھر اچانک خیال آیا کہ پچھلے دنوں میری ایک پرانی فلپائنی سہیلی نے اسلام قبول کر لیا تھا جو اب سعودی عرب میں ملازمت کر رہی ہے۔ میں اس کے پاس گئی اور اسلام کے بارے میں سوالات کرنے لگی۔ سب سے پہلے میں نے اسلام میں عورتوں کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں سوال کیا۔ اس لئے کہ مجھے جہاں تک عیسائیت میں جو معلومات فراہم ہوئی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم عور تیں نہایت خستہ حالت میں ہیں۔ اسلام ان کے حقوق کی رعایت نہیں کرتا ہے۔ نیز یہ کہ اسلام شوہروں کے لئے بیویوں کو مارنے کی کھلی اجازت دیتا ہے اور گھر سے باہر نکلنے کی بالکل اجازنہیں دیتا ہے-
“خدیجہ “کہتی ہیں۔ مجھے اپنی سہیلی کے جوابات سے قدرے اطمینان ہوا۔ اس اوراس نے فورا مجھے اسلامی مرکز جانے کو کہا۔ جب میں اسلامی مرکز پہنچی اور وہاں میں نے اسلام کے بارے میں اپنی معلومات کا ذکر کیا تو وہ حیرت زدہ ہو گئے اور انھوں نےصحیح معلومات فراہم کیں۔ نیز مرکز اسلامی کے صدر نے مجھے اسلام کے موضوعات پر چند کتا بیں دیں۔ اسے روزانہ میں مطالعہ کرتی رہی۔ ان دنوں میں نے بارہ چھوٹے چھوٹے کتابچوں کا مطالعہ کر لیا۔

ایک ہفتہ میں کتابوں کے مطالعہ سے فارغ ہوئی تو مجھے یقین ہو چکا تھا کہ اسلام ہی بر حق دین ہے اور یہی آخرت کے عذاب سے نجات دلانے والا ہے۔ لیکن اس وقت تک میرے اندر پوری طرح اسلام راسخ نہیں ہوا تھا۔ شیطان برابر میرے ذہن میں قلق اور خوف ڈالتا رہا۔ اس لئے اسلامی مرکز نے مجھے اسلامی محاضرات میں شرکت کے لئے زور دیا۔ چنانچہ دوسرے مہینہ کے اندر ہی ایک روز میں لیٹی ہوئی تھی اور نیند آرہی تھی کہ اچانک میں اٹھ بیٹھی اور میں نے زبان سے ادا کیا۔ اے اللہ میں تو صرف تیری ذات پر ایمان لا چکی ہوں۔ فوراً شہادتین کا اقرار کر لیا۔ اس روز کے بعد مجھے نہ کبھی قلق ہوا۔ نہ ہی کسی کا خوف۔ یہی دن میری پیدائش کا دن تھا۔
” خدیجہ “ کہتی ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے فلپائن یونیورسٹی میں عیسائی دینیات کے لکچر رشپ سے استعفیٰ دے دیا اور فلپائن میں واقع اسلامی مرکز کے تحت خواتین کے جلسوں اور محاضرات میں اسلام کی داعیہ کی حیثیت سے شرکت کرنے لگی۔ یہ سرگرمی تقریب ڈیڑھ سال تک رہی۔ پھر قصیم، سعودی عرب میں واقع مسلم عورتوں کی ایک تنظیم میں اسلامی داعیہ کی حیثیت سے بلائی گئی۔ وہاں میں نے اپنی مادری فلپائنی زبان میں اسلام کی نشر و اشاعت میں اپنی سرگرمی شروع کر دی۔
“خدیجہ” کہتی ہیں۔ جب میں مرکز اسلامی فلپائن میں کام کر رہی تھی اس وقت جب بھی گھر واپس آئی، اپنے ساتھ کچھ اسلامی کتابچے اور پرچے ساتھ لائی، اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ میرے لڑکے “کریسٹوفر ” کو بھی ہدایت نصیب فرمادے۔ چونکہ اس وقت صرف وہی میرے ساتھ رہ رہا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد میں نے محسوس کیا کہ میرا لڑکا اپنے ایک دوست کے ساتھ ان کتابچوں اور پرچوں کا مطالعہ کرتاہے ۔ ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ میرے لڑکے نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ مپرا واحد لڑکا ہے جس نے فوراً میرے بعد اسلام قبول کیا۔ اور اپنا نیا اسلامی نام “عمر ” رکھا۔ اس کے قبول اسلام سے میرے حوصلے مزید بلند ہو گئے۔ اللہ سے دعا گو ہوں کہ باقی دوسری اولاد کو بھی اسلام کی توفیق دے دے۔ آمین۔

مجھے پڑھنے کا بے حد شوق ہے۔ میں نے بخاری و مسلم اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کا بھی مطالعہ کیا۔ اس کے علاوہ صحابہ کرام ، صحابیات ازواج مطہرات کی سیرتوں کو بھی پڑھا۔ آج بھی دیگر اسلامی کتابوں کا مطالعہ جاری ہے۔

کیا اسلام قبول کرنے میں آپ کو پریشانیاں لاحق ہوئیں؟

“خدیجہ” کہتی ہیں۔ ہاں ہو ئیں! ان دنوں میں امریکہ اور فلپائن دونوں جگہ رہر ہی تھی۔ جبکہ میری تمام لڑکیاں شادی شدہ تھیں۔ جب میں نے اسلام قبول کیا تو تین لڑکیوں نے مجھے مسترد کر دیا۔ جبکہ باقی دوسری لڑکیوں نے مجھے اسلام کی حالت میں بھی آزادی رائے کے تناظر میں تسلیم کیا۔ لیکن امریکہ میں میرے گھر اور فون پر نگرانی رکھی جانے لگی۔ اس لئے میں نے امریکہ کو چھوڑ کر فلپائن میں ہی اپنا قیام منتقل کر لیا۔ البتہ میرے شوہر کے گھر والوں نے مجھے پریشان کرنا شروع کر دیا۔ جبکہ میرے والدین اس دنیا میں نہیں رہ گئے تھے ۔ اکثر جب میں گھر سے باہر نکلتی تو سڑکوں میں کھیلتے ہوئے لڑکے مجھ پر طعنہ کستے۔ جس سے صاف اندازہ ہوتا کہ یہ سب میرے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ہے۔

اسلام قبول کرنے کے بعد کیا آپ نے جلسوں اور کا نفرنسوں میں شرکت کی؟
نہیں۔ میں کسی کا نفرنس وغیرہ میں شریک نہیں ہوئی۔ البتہ فلپائن کی مشہور یونیورسٹیوں اور کالجوں میں میں نے اسلامیات پر مختلف مقالات پیش کئے۔ اس طرح بعض ممالک کے سربراہوں کی طرف سے مجھے دعوت ملی کہ عیسائیت اور اسلام کے درمیان اپنے تقابلی مطالعہ کو پیش کروں لیکن اس سے میں اکثر اجتناب کرتی۔ اس لئے کہ اسلام کی تبلیغ منفی اسلوب کے بجائے میں مثبت انداز میں کرناچاہتی تھی۔ اسلام اور اس کے بارے میں مطالعہ کے بعد میں نے محسوس کیا کہ پوری دنیا خصوصاً مغربی دنیا صرف اسلام ہی کے خلاف کیوں بکواس کرتی ہے؟ صرف اس لئے کہ یہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس کا پھیلاؤ پوری دنیامیں ہے کہ مسلمان ہی وہ واحد قوم ہے جو اپنے دین کو نہیں بدلتی ہے۔
اوراپنے اختتامی کلمات میں ”خدیجہ “اسلام کے تئیں اپنی خواہشات کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ ان شاء اللہ میں افریقہ جاؤں گی تاکہ میں وہاں دعوت و تبلیغ کا کام کروں اور درس بھی دوں۔ میری خواہش ہے کہ میں مصر جا کر فرعون کے اس مجسمہ کو دیکھوں جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ پوری دنیا میں مسلمان اپنے حسن اسلام کا مظاہرہ کریں اور دعوت و تبلیغ کو اپنے لئے لازم کر لیں۔

(العالم الاسلامي ، مكة المكرمة 19- 23مئی 1999ء)
(روشنی کی طرف/120)