آن صوفی رولڈ :سویڈن سے اسلام کی روشنی تک
(سویڈن)

میں ایک عیسائی خاتون ہوں، میری پیدائش سویڈن کے آزاد ماحول میں ہوئی اور وہیں میری نشو و نما ہوئی، مغرب کے اس آزاد ما حول میں جب میں نے اپنا ہوش سنبھالا تو محسوس ہوا کہ مغربی تہذیب میں اخلاقی قدریں ہی نہیں۔ بلکہ انسانیت نا پید ہے، یہاں ہر شخص ، مردو عورت اپنی مرضی کا مالک ہے، خواہ وہ اللہ کے وجود کا اقرار کرے یا انکار کر دے، کپڑے زیب تن کرے یا وہ ترقی کے نام پر ننگار ہے، میں نے یہاں یہ بات باعث شرم نہیں دیکھی کہ مرد مرد سے یا عورت عورت سے شادی کرلے۔ وحدانیت کے خلاف اس مسموم اور ابر آلود فضا میں میرے لیے اللہ کی وحدانیت اور اللہ کے رسول کی رسالت کو تسلیم کر لینا خود میرے لیے حیر ان کن تھا، لیکن اللہ کے فضل اور اس کے احسان سے اسی ماحول میں میں نے اپنی فطرت کی آواز کو سنا اور اسلام کو اپنا مذہب تسلیم کر لیا۔ وذالك فضل الله يوتيه من يشاء.

“آن صوفی رولڈ “ کہتی ہیں۔ یہاں سویڈن میں اکثر میں ذہنی طور پر انتشار کا شکار رہتی اور مغرب میں خواتین کی عفت و عصمت کے ساتھ کھلواڑ کو دیکھ کر دل میں اس سماج سے نفرت پیدا ہو گئی۔ جب کہ ایک عورت کی عزت و آبرواسی میں ہے کہ وہ گھر کی ذمہ داریوں کو پوری کرے، عورتوں کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ مردوں کے ساتھ بازاروں میں مصروف عمل رہیں۔ اس لیے میں ہر اس مذہب سے بیزاری کا اظہار کرتی ہوں جس کے نزدیک عورتوں کی عزت و آبرو کی کوئی اہمیت نہیں ہے، بیشک اسلام ہی واحد مذہب ہے جس کے نزدیک اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔

“آن صوفی رولڈ “ کہتی ہیں۔ بچپن سے ہی میں مذہب کے بارے میں سوچتی اور پریشان ہو جاتی نیز سویڈن کے سماج میں عورتوں کے ساتھ بد تمیزیوں کو دیکھتی تو سخت الجھنوں میں پڑ جاتی۔ اس لیے جب میں بڑی ہوئی تو فورًا یونیورسٹی میں اپنا داخلہ کروالیا اور اپنے لیے ”مذاہب عالم پر ریسرچ کا موضوع منتخب کیا۔ ۱۹۸۱ء سے باضابطہ میں نے ادیان عالم کا مطالعہ شروع کر دیا، اس دوران میں نے عربی زبان بھی ایک حد تک سیکھ لی۔ تاکہ اسلام کو اس کے اصلی مصادر و مراجع سے سمجھ سکوں۔ اس لیے کہ یوروپ و مغرب میں یہود و نصاری اور ان کے پادری اسلام کے بارے میں جو معلومات فراہم کرتے ہیں ان سے یقینًا کوئی بھی شخص اسلام کے قریب نہیں آسکتا۔ وہ لوگ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام ظلم و جبر اور غارت گری سکھاتا ہے۔ جب کہ ان کی یہ تمام باتیں واقعہ کے خلاف ہیں۔
جب میں نے اس تناظر میں اسلام اور عیسائیت کا تقابلی مطالعہ کیا تو بےساختہ میرادل اسلام کی طرف مائل ہونے لگا اور کبھی بھی میرا دل اس عدل و انصاف کی طرف متوجہ نہیں ہوا جس عدل و انصاف کی بات عیسائی کرتے ہیں۔ جن کے عقیدے میں مجرم پادریوں کے سامنے اپنے گناہ کے محض اقرار سے چھٹکاراحاصل کر لیتا ہے۔ عیسائی عقیدے میں اس کو ”سر الاعتراف“ کہا جاتا ہے۔
اس کے بر خلاف اسلامی عدل و انصاف نے مجھے بیحد متاثر کیا، اسلام میں مجرم کو سزا ملتی ہے یہاں تک کہ وہ گناہ سے توبہ کرلے۔ ایک مسلمان کے لیے کسی گناہ کے ارتکاب کے وقت دینی اور دنیوی سزا پیش نظر رہتی ہے۔ تاکہ وہ فیصلہ کر سکے کہ آیا اپنے آپ کو سزا کا مستحق ٹھہرا رہا ہے یا اس سے نجات اور چھٹکارا چاہتا ہے ؟
میں نے محسوس کیا کہ عیسائیوں کے یہاں مجرم کی سزا معاف ہے۔ اس لئے ان کے شہروں میں جرائم اور اخلاقی بدتمیزیاں اپنی حدوں سے متجاوز ہیں، سویڈن اور مغرب کے تمام شہروں میں قتل، نشہ اور لوٹ مار کے علاوہ زنا اور آزادانہ جنسی اختلاط کا بازار گرم ہے۔ یہ مصیبت ہر ان مغربی شہروں میں ہے جن کے یہاں مکمل جنسی آزادی حاصل ہے۔ جب کہ مسلم ممالک کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ جرائم نہیں کے برابر ہیں۔ صرف اس لیے کہ وہاں کے لوگ انہی قانون پر ایمان لائے ہوئے ہیں جو مجرموں کے لیے سخت گیر ہے۔
“آن صوفی رولڈ “ کہتی ہیں۔ سماج کی اکائیوں کو انتشار سے بچانے کے لیے سب سے مناسب اور اعلیٰ انتظام اسلام کے پاس ہے۔ سماجی برائیوں کے انسداد کے لیے اس کے پاس جامع اصول ہیں۔ اور جہاں تک ترقی کی بات ہے تو اسلامی نظام معاشرت میں ترقی کی تمام خوبیاں موجود ہیں۔ بلکہ میں یہاں تک کہتی ہوں کہ اسلام ترقی کی دوڑ میں دنیا کی قوموں کے مقابلہ میں سب سے آگے ہے۔
میری نظر میں وہ تمام نام نہاد ترقی پسند مغربی دانشور تنگ نظری میں مبتلا ہیں جو اسلام کے نظریۂ تعددِ ازدواج کے حوالے سے عورتوں کو مظلوم بتاتے ہیں۔ میرے ماں باپ اسلام پر قربان ہوں۔ جس نے تعددِ ازدواج کے قانون کو وضع کر کے عورتوں کو حقوق دلوائے۔ دراصل مغرب کو اس نظریہ سے اختلاف اس لیے ہے کہ ان کے یہاں بیوی کے علاوہ ایک سے زائد سکریٹری کے نام پر خواتین کے استحصال کا موقع نہیں مل پاتا۔ ان سے پوچھئے کہ ایک قانون کے دائرے میں رہ کر کسی مرد کی زوجیت میں کوئی عورت زیادہ محفوظ رہ سکتی ہے یا آزاد کلبوں میں دوستی کے نام پر ؟ اور یہ حق ان کو کس نے دیا؟ جبکہ اسلامی شریعت خواتین کے لیے سراپا رحمت ہے۔
اسلام میں ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے الگ الگ اور مستقل حقوق متعین ہیں ،جس کی مثال یوروپی قوانین میں قطعاً نہیں ملتی۔ خواتین کے ساتھ اسلام نے جس عدل و انصاف کا معاملہ کیا ہے اس نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ اسلامی قوانین کے تحت مسلم خواتین کو یقیناً تحفظ حاصل ہے۔
“آن صوفی رولڈ ” اسلام کی جامعیت کو دہراتے ہوئے کہتی ہیں۔ اسلام کے بارے میں معلومات کے دوران میں نے کسی کتاب میں اسلام کے آخری پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث دیکھی۔ اس میں آپ نے ارشاد فرمایا ۔ ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جس نے اپنی رات تو آسودہ گذاری اور اس کے پڑوسی بھو کے رہے۔ اس مختصر روایت میں پوری دنیا کے لئے اجتماعی کفالت کا ایک دستور ہے۔ جہاں مغربی سماجی مبصرین کی پہنچ تک نہیں۔
“آن صوفی رولڈ “ کہتی ہیں۔ ان تمام ترجیحات اور اپنی فطرت کے فیصلہ کے سامنے میں نے اپنا سر تسلیم خم کر دیا اور ۱۹۸۲ء میں میں نے اپنے اسلام کا اعلان کر دیا اور آبائی مسیحی دین سے میں نے برأت کا اظہار اور اعلان کر دیا۔ خدا کا شکر و احسان ہے کہ اس نے محض اپنے فضل و کرم سے ظلمات سے نکال کر اسلام کی روشنی عطا فرمائی۔ ذالك من فضل الله.
“آن صوفی رولڈ “ کہتی ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میری شادی ایک مسلمان نوجوان سے ہو گئی۔ اس کے بعد ملیشیا اور جارڈن کی تربیتی اور اسلامی تحریکات کی طرف سے میں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی جس کی وجہ سے اسلام کو سمجھنے میں پوری مدد ملی۔ الحمد للہ میں نے اپنے اندر بڑے مغربی ٹھیکیداروں اور پادریوں سے اسلام کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیا ہے۔ چنانچہ اس کے فورًابعد قاہرہ میں مختلف تہذیبوں کے درمیان “کشمکش”کے موضوع پر منعقد ہونے والی کا نفرنس میں سرگرم حصہ لیا اور بنیادی مغربی نظریات کی سخت الفاظ میں تردید کی اور میں نے ثابت کیا کہ دنیا میں کوئی بھی مذہب اسلام کا بدل نہیں ہے۔

(الفيصل، ریاض، عد /247 .ص/64)
(روشنی کی طرف ص/137)