پچھلے دنوں جرمن فوج کی قاہرہ سیاحت کے دوران “مارٹن آرک” نے اس بات کی شدید خواہش ظاہر کی کہ وہ وہاں کی مشہور مساجد، مسجد حسینی، مسجد سیده زينب ، مسجد سیدہ عائشہ اور مسجد امام شافعی کی زیارت کریں۔ اس دوران وہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں طرح طرح کے سوالات بھی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی اس طلب صادق کے ساتھ جامعہ از ہر شریف مصر پہنچ گئے اور وہاں کے دار الافتاء میں اسلام کے تئیں اپنے دیرینہ جذبات کو اُجاگر کر دیا۔ ان کے اعلان و اقرار سے دار الافتاء مصر کی در و دیوار گونج اٹھی۔
جب” مارٹن آرک “ سے ان کے نئے اسلامی نام کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ خوشی و مسرت سے لبریز بول اٹھے کہ ایک لمحہ پہلے میرا نام ” مارٹن آرک “ تھا اور اب میں نئے اسلامی نام ”مہدی محمد “ سے سرفراز ہو گیا ہوں۔
“مارٹن آرک” بیان کرتے ہیں۔ جب میں قاہرہ پہنچا تو ہر لمحہ یہ خواہش پیدا ہو رہی تھی کہ کب جامعہ ازہر کی زیارت کروں اور اپنے اسلام کا عام اعلان کر دوں۔ چونکہ جب میں جرمنی میں تھا اس وقت جامعہ ازہر کے بارے میں وہاں کے مسلمانوں سے بار بارسنتا کہ اس نے پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی کس قدر خدمات انجام دی ہے۔
جرمنی کے مسلمانوں کی زبان سے جامعہ ازہر شریف کا ذکر بار بار سننے کے نتیجے میں میرے تحت الشعور میں یہ بات بیٹھ گئی کہ جتنی جلد ہو سکے اس کی زیارت کی جائے، جرمنی میں زیادہ تر مسلمان ترک، افغان، پاکستانی، عرب اور ایرانی ہیں۔
“مارٹن آرک” اپنے ابتدائی سفر ایمان کے حالات بیان کرتے ہیں۔ جب میں نے اسلام کے بارے میں بہت ساری کتابوں کا مطالعہ کر لیا اور اسلام کے تئیں میرے جذبات بھڑک اٹھے تو اس کے بارے میں مکمل سوچنے پر آمادگی ہو گئی اور پہلے تو میں نے اپنے اسلام کا اعلان جرمنی “میونج“ میں ہی کر دیا اور اس کا عام اعلان بعد میں جامعہ ازہر مصر میں کیا۔
جرمنی میں اسلام اور مسلمان کے کیا احوال اور مستقبل ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں “مارٹن” نے اپنے افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ جرمنی زبان میں اسلام سے متعلق معلومات بہت کم اور بہت سطحی ہیں۔ اگر مہاجر مسلمانوں کا وہاں سے گزر نہ ہوتا تو آج میں ایمان جیسی دولت سے سرفراز نہ ہوتا۔ میری زندگی میں جس کتاب نے سب سے بڑا انقلاب پیدا کیا ہے وہ علامہ یوسف القرضادی کی کتاب “الحلال و الحرام “ ہے۔
“مارٹن آرک” بتاتے ہیں۔ اس وقت میں غیر شادی شدہ ہوں البتہ ایک جرمن لڑکی سے میرا تعلق تھا جو،اب نہیں ہے۔ مسلمان ہونے کے بعد میں نے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ البتہ اب میں چاہتا ہوں کہ مسلمان لڑکی سے شادی کروں جو ان اوصاف کی حامل ہو جس کو اسلام اور قرآن نے بتایا ہے۔
جرمنی کے احوال مزید بیان کرتے ہیں۔ اس وقت جرمنی اور مغرب میں اسلام کی صورت بالکل بگڑی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ بعض لوگ اسلام کو متعصب اور دہشت گردی کا دین تصور کرتے ہیں۔ اس کا ذمہ دارانہوں نے اسلامی ممالک اور مسلمانوں کو ٹھہرایا ہے جو اسلام کے خلاف کام کرتے ہیں اور اپنے عمل سے اسلام کو بد نام کرتے ہیں۔
اگر چہ اسلام کو بدنام کرنے میں یوروپ نے بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے لیکن مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی تقلید نہ کریں بلکہ خالص اور حقیقی اسلام کو اپنے اعمال سے ثابت کریں۔
(العالم الإسلامي – مكة المكرمة،17.24اپریل 1995ء)
( روشنی کی طرف صفحہ/64)