“ان الدين عند الله الاسلام ” قرآن کریم کی اس ایک آیت نے از ہر شریف کے دار الافتاء میں مندرجہ ذیل چھ افراد کے دلوں میں نور ایمان کو منتقل کر دیا۔
عادل رزق محمد ، اس کی بیوی میرفت انور عبد الرحمن اور ان دونوں کے چار بچےجن کا آبائی تعلق مسیحیت سے تھا۔ ایک طویل مسافت کے بعد ایمان کی دولت سے سرفراز ہو گئے۔ خدا کے اس فضل واحسان کا اظہار انہوں نے جن الفاظ میں کئے ہیں یقیناً دوسروں کے لئے بھی وہ مشعل راہ ثابت ہو گا۔ ؟
“عادل محمد مہدی ” اسلام قبول کرنے کے بعد کہتے ہیں۔ مجھے زندگی کے تمام شعبۂ جات میں اسلام کی سادگی، میانہ روی اور نظافت و پاکیزگی نے بے حد متاثر کیا۔ اگر میں دنیا کو صرف یہ بتاؤں کہ روزانہ پانچوں وقت کی نماز کے لئے وضو نے میری زندگی کے اندر انقلاب پیدا کر دیا تو زیادہ بہتر ہو گا۔
“عادل محمد” کہتے ہیں۔ مجھ پر اس وقت بہت شاق گذر تا جب معبود کے بارے میں بحث ہوتی۔ مسیحیت کے اندر تثلثیت سے کبھی میرا دل مطمئن نہیں ہوتا۔ عیسائی پادری کہتے ہیں کہ معبود صرف ایک ہے اور کبھی کہتے دو ہیں، اور کبھی تین کہتے۔ اس صورت حال میں میں کافی تذبذب میں مبتلا ہو جاتا اس کے برعکس اسلام میں صرف ایک معبود کی عبادت کے لئے کہا گیا ہے۔ جب میں نے سنجیدگی سے دونوں کا موازنہ کیا تو عقل سلیم نے ایمان و ہدایت کی شمعیں میرے دل میں روشن کر دی۔ ہرگز ایک کشتی کے لئے دو نا خدا جو ایک ہی وقت میں کشتی چلا رہے ہوں نہیں ہو سکتے۔ دونوں نے چلانے کی کوشش کی تو یقیناً کشتی ڈوب جائے گی۔ اس وقت اللہ کے کلام “لوكان فيهما آلهة الا الله لفسدتا “کی حقانیت مجھ پر واضح ہوتی چلی گئی اور اب میں نے اس کے بعد زندگی میں صرف اللہ کی ذات کو اپنے لئے معبود ومسجود، خالقِ نافع و ضار سمجھ لیا اور “لا الله الا الله محمد رسول الله “ کو جنت کی کنجی ہونے کا دل سے اعتراف کر لیا۔
اس کے معّا بعد “عادل محمد “ کی اہلیہ ” میرفت عبد الرحمن” نے گفتگو شروع کرتے ہوئے کہا۔ قرآن کریم نص قدسی واضح اور صریح ہے، اس میں کسی طرح کی کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے۔ اس لئے اللہ نے خود اپنے کلام پاک کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے۔ انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون .نیز اللہ کی ذات میں کوئی شریک نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں خود “قل هو الله احد الله الصمد “ کہا ہے۔ اس کے علاوہ سورہ مریم میں اللہ کی وحدانیت کی آیات موجود ہیں۔ اللہ نے مریم علیہا السلام کو بغیر باپ کے اولاد کا وعدہ کیا تو ایسا ہی ہوا۔ یہ اللہ کے قول اور قرآن کی حقانیت کا برملا اعلان ہے۔
جب ان سے ایمان لانے کی وجہ سے پریشانیوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو دونوں نے کسی قسم کی پریشانی اور دباؤ کا بالکلیہ انکار کیا اور کہا۔ الحمد اللہ اب تک کسی نے ہماری آزادی رائے کے بارے میں اعتراض نہیں کیا، کبھی کبھی اسلام اور مسلمان کے دشمنوں سے دل میں اگر کوئی خطرہ پیدا ہوتا بھی ہے تو فوراً اللہ کے حفظ و امان پر نگاہیں رک جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ظاہری طور پر مصری قانون ہمارے پاس ہے۔ اس لئے ہم پورے خاندان نہایت آزادی کے ساتھ اسلام پرعمل پیرا ہیں۔
اس سلسلے میں ہم دونوں مصر کے “ادارۃ الا من” میں گئے۔ جب ہم سے پوچھا گیا کہ تم لوگوں کو اسلام لانے پر کس نے مجبور کیا ؟ تو ہم نے اطلاع دی کہ الحمد الله ہم نے پورے فرحت و انبساط کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے۔ اس میں کسی فرد یا تنظیم کا قطعاًدباؤ نہیں ہے۔ ہماری زندگی کے اندر انقلاب برپا کرنے والی چیز صرف قرآن کی ایک آیت” ان الدین عند الله الاسلام ومن يبتغ غير الاسلام دينا فلن یقبل منہ” ہے۔ ہم اکثر قرآن کریم کی تلاوت میں اس آیت کو پڑھتے تھے۔
“عادل محمد ” کہتے ہیں۔ میں اس طمانیت اور سرور کو بیان نہیں کر سکتا جو مجھے قرآن کی تلاوت کے دوران محسوس ہوئی۔ شوق ووجد کی کیفیت لگتی، آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔ ہم نے اپنی زندگی میں ایسا اطمینان کبھی نہیں محسوس کیا۔
یہ بیان کرتے ہوئے” عادل محمد “ اچانک خاموش ہو گئے اور تھوڑی دیر کے بعد کہا۔ اللہ کی ہزار رحمتیں نازل ہوں شیخ سالم پر، معلوم نہیں باحیات ہیں یا نہیں۔ اس پاکیزہ کردار کے مالک شخص، مربی اور استاذ نے جامعہ ازہر کے ابتدائی ایام میں قرآن کریم مجھے پڑھنا سکھایا۔ بلکہ کچھ سورتیں حفظ بھی کرائی۔
“عادل محمد “ اپنے زمانۂ طالب علمی کے احوال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ پہلے جامعہ ازہر شریف میں غیر مسلموں کے داخلہ پر پابندی عائد نہیں تھی۔ نیز ہم لوگ معاشی طور پر کافی کمزور تھے۔ معلوم ہوا کہ جامعہ ازہر میں وظائف دیئے جاتے ہیں اس لئے ہم نے وہاں پڑھنے کا ارادہ کر لیا۔ چونکہ ہمارے گھر سے جامعہ از ہر بہت قریب تھا۔ اس طرح ہم نے ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔
یہ بیان کرتے ہوئے “عادل محمد” کی آنکھوں سے آنسو جاری ہونے لگے۔ تواس کی اہلیہ نے سلسلۂ کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔ میرے شوہر عادل کافی دنوں سے نماز پڑھتے، روزہ رکھتے مگر نہایت پوشیدہ، چھپ کر گھر کے اندر ، اس چیز کو صرف میں محسوس کر رہی تھی۔ لیکن پچھلے سال انہوں نے سب گھر والوں، بچوں اور دوستوں کے سامنے روزہ رکھنے کا اعلان کیا۔ اس وقت تک ہم لوگوں نے اپنے اسلام کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا تھا۔ پھر عادل نے اسلام کے بارے بچوں کے سامنے گفتگو شروع کر دی اور میرے لڑکے “ریمون” نے اسلام قبول کر لیا، جس کا نام اب “احمد” ہے۔ اسی وجہ سے جب عادل نے میرے سامنے اسلام کو پیش کیا تو سب سے پہلے اس کی تائید احمد نے کی۔ اور خوشی سے چہک اٹھا۔
“میرفت عبد الرحمن” کہتی ہیں۔ اس وقت پورے گھر والے اسلام کے سائے میں ہیں۔ مجھے اس وقت خوشی کی انتہا نہیں رہتی جب میرے پڑوسی” ام ٹریزہ” اور ”ام ریمون“ کے بجائے ”ام احمد “ سے پکارتے ہیں۔
” میرفت عبد الرحمن” کہتی ہیں۔ عادل کا اسلام اول ہے اور وہی ہمارے لئے اسلام کاسبب ہے۔ البتہ اسلام جو کہ محبت اور الفت کا دین ہے اس کے لئے شروع سے ہی میرے دل میں نرم گوشہ تھا۔ اتنا کہتے کہتے “میرفت عبدالرحمن” خاموش ہو گئیں جیسا کہ کچھ اچانک ان کو یاد آگیا، پھر قدرے مسکرا کر یہ انکشاف کیا کہ شروع میں میں نے عادل کے اسلام کے اعلان و اظہار کے بابت اعتراض کیا۔ صرف اس وجہ سے کہ میرے علم میں تھا کہ اسلام کے اندر ایک مرد کو متعدد بیویاں رکھنے کا حق ہے۔ اور میں عادل سے بے پناہ محبت رکھتی تھی۔ مجھے ڈر سا لگا کہ کہیں عادل بھی دوسری شادی نہ کرلے۔ اس بات پر عادل بے ساختہ ہنسنے لگے۔ اور کہنے لگے۔ میں یہاں اللہ اور اس کے رسول اور جریدۃ العالم الاسلامی کو گواہ بناتا ہوں کہ میں تمہارے علاوہ اب دوسرے سے شادی نہیں کروں گا۔
سلسلۂ کلام کو مختصر کرتے ہوئے ان دونوں سے پوچھا گیا کہ تمہاری اولاد میں سے احمد ، سائرہ ، امیرہ اور مریم نے قرآن کریم کی کچھ آیات کا حفظ کیا یا نہیں اورآئندہ ان کی تعلیم کے بارے میں کیا سوچا ؟
” میرفت عبد الرحمن” نے جواب میں کہا۔ الحمد للہ میرے بچوں نے قرآن کریم کی کچھ سورتیں اور نبی کریم کی کچھ احادیث کا حفظ کر لیا ہے۔ لیکن آئندہ ارادہ ہے کہ سب کو مکمل قرآن کریم کا حافظ بناؤں اور دین اسلام کی مکمل معلومات ان لوگوں کو فراہم کروں۔ مگر اس وقت میرے پاس دینی کتب نہیں ہیں کہ ان کی مدد سے تعلیم کا آغاز کروں۔ سب سے پہلی ہماری کوشش یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک اسلامی مکتبہ ہو جائے اور اسلام سے متعلق کتابیں فراہم ہو جائیں۔ اس کے بعد فوراً اپنے بچوں کو شعبہ تحفیظ القرآن الکریم میں داخلہ کا ارادہ ہے۔ ان شاء اللہ آئندہ ارادہ ہے کہ سب جامعہ ازہر شریف میں داخل ہوں تاکہ اپنے والد کی طرح تعلیم حاصل کر سکیں اگر چہ ابھی ان کے پاس کوئی اعلیٰ تعلیم کا سرٹیفکیٹ نہیں ہے صرف دو سرٹیفیکٹوں کے علاوہ، ایک اشهد ان لا اله الله دوسرا اشهد ان محمداً رسول الله.
دنیا کے مسلمانوں کو پیغام دیتے ہوئے دونوں نے کہا۔ پوری دنیا کے مسلمانوں سے میری خواہش ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے تعاون کا معاملہ کریں اور پورا عالم اسلام متحد ہو جائے ۔ ہم لوگوں کی خواہش ہے کہ حج بیت اللہ شریف کے لئے اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گھر بلائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اطہر کی زیارت کریں۔ وہاں جا کر مزید اپنے گناہوں کو دھو ڈالیں۔ ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالی اس خواہش کو پوری کرے گا۔ ہمیں اللہ کی اس ذات پر مکمل بھر وسہ ہے جس نے زندگی کی سب سے بڑی دولت ایمان سے سرفراز کیا وہی اپنے گھر پر بھی بلائے گا۔ ان شاء اللہ ۔
اخیر میں اللہ کے فضل وکرم کا اظہار کرتے ہوئے اپنی گفتگو کو ختم کیا۔ اور کہا کہ ہم لوگ کسی سے کچھ نہیں چاہتے۔ بس اللہ اور اس کے فضل کو چاہتے ہیں۔ وسیع حمت کے سایہ میں پناہ چاہتے ہیں۔ اللہ سے ملاقات کے وقت شہادتین کا اقرار چاہتے ہیں۔ حلال روزی کی توفیق مانگتے ہیں۔ اور ہم اپنی اس خواہش کا مکر راظہار کرتے ہیں کہ خدایا بیت اللہ شریف اور حرم مدنی کی زیارت نصیب فرمائے۔ آمین۔
(العالم الإسلامي، مكة المكرمة 11-17/نومبر 1996ء)
(روشنی کی طرف/132)