“مانی فرد کو سبیل” جرمنی کے شہر برلین میں 1937ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی عقیدہ عیسائیت ہے۔ عیسائی ماں باپ کی تربیت میں “کو سبیل” نے ابھی دو ہی سال گزارے تھے کہ عالمی جنگ عظیم کی آگ بھڑک اٹھی اور اس کی زد میں پورا خاندان آگیا۔ صرف “مانی فر د” ہی اس دنیا میں رہ گئے۔ لیکن اس شہر کے ایک خاندان نے ان کی اپنے بچے کی طرح پرورش کی۔ یہاں تک کہ 1995ء میں انھوں نے ثانویہ عامہ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد وہ برلین سے بلجیک منتقل ہو گئے۔ وہاں تدريب المعلمين میں داخلہ لے لیا۔ یہ تقریباً دو سال کا کورس تھا۔ پھر 1957ء میں وہ اپنے شہر برلین واپس آگئے ۔ 1961ء میں ترکی کی اتاترک یونیورسٹی میں جرمنی زبان کے لکچر ر منتخب ہو گئے۔ یہاں بھی انھوں نے دو سال قیام کیا۔ اس کے بعد تیونس کا سفر کیا۔ اس لئے کہ جس خاندان نے ان کی پرورش کی تھی اس کا ایک فرد وہاں مقیم تھا۔
“مانیفر د کو سبیل“ کہتے ہیں۔ تیونس پہنچ کر میں نے زبان و ادب کی تعلیم کے لئے ایک ادارہ قائم کر دیا۔ اللہ کی مرضی سے اس میں مسلمان خاندان کے سات طلبہ داخل ہو گئے۔ تیونس میں یہ خاندان بہت مشہور ، اعلیٰ حسب، وضع ، رہن سہن، اور اخلاق و کردار میں ممتاز تھا۔ اس خاندان کے چشم و چراغ کو خداداد صلاحیتیں ورثہ میں ملی تھیں۔ میں نے ایک روز ان سے سوال کیا کہ تم نے یہ اخلاق کہاں سے حاصل کئے ؟ سب نے بیک آواز جواب دیا۔ ”اسلام سے۔ اور الحمد للہ ہم لوگ مسلمان ہیں۔“
“مانیفر کو سبیل “کہتے ہیں۔ یہ جواب میرے لئے حیران کن تھا۔ میں نے فوراً ان بچوں سے کہا۔ میں نے ترکی اور یوروپ میں بہت سارے مسلمانوں کو دیکھا مگر ان کے احوال نے مجھے متاثر نہیں کیا۔ مگر میں نے پھر سوچا کہ اسلام یہی ہے، سب مسلمان برابر نہیں ہو سکتے البتہ اسلام سب کے لئے یکساں ہے۔ یقینا شاگردوں کے جوابات نے ہمارے ہوش اُڑادئیے۔ چنانچہ میں ان سے اسلام کے بارے میں سوال کرنے لگا اور وہ بتانے لگے کہ اسلام ہی قیامت تک کے لئے دین ہے۔ وہی اللہ کے یہاں معتبر اور قابل قبول ہے۔ آپ پر نبوت ختم ہے۔ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے جو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ ان میں سے ایک نے مجھے قرآن شریف ہدیہ کیا۔ میں نے شکریہ کے ساتھ اسے قبول کیا۔ البتہ میں عربی زبان پر قدرت نہیں رکھتا تھا اس لئے اس کو سمجھنے کے لئے میں بے قرار ہوا تھا۔
“مانیفر د کو سبیل“ کہتے ہیں۔ اس وقت میری خوشی کی انتہانہ رہی جب میرے پاس قرآن کریم کا جرمنی زبان میں ترجمہ آیا۔ اب سوچنے لگا کہ اسے بالاستیعاب فرصت نکال کر پڑھوں گا۔ مگر دیگر مصروفیات کی وجہ سے وہ موقع ہاتھ نہ آسکا۔ یہاں تک کہ 1966ء میں عیسائیوں کے سالانہ تہوار کا دن آیا اور میں اپنے کفیل کے ساتھ اس میں شرکت کے لئے اپنے وطن بر لین واپس آگیا تو میں نے دیکھا کہ اس میں شرکت کرنے والے بغیر کسی قباحت کے شراب پی رہے ہیں۔ میں نے ابھی ایک دو چسکی لی ہی تھی کہ مجھے سخت تکلیف ہو گئی اور میں وہاں سے غائب ہو گیا۔ جب مجھے درد سے افاقہ ہوا تو میں نے دیکھا کہ اپنے گھر کے ایک تخت لیٹا ہوا ہوں اور ڈاکٹروں نے ابھی اسی طرح رہنے کو کہا ہے۔
” مانیفر د کوسبیل” کہتے ہیں۔ اس وقت مجھے شدت سے خواہش ہوئی کہ قرآن کریم کے ترجمہ کا مطالعہ کروں۔ چنانچہ میں نے پڑھنا شروع کر دیا۔ جب میں نے شروع کیا تو اس کی استطاعت نہیں رہی کہ اسے ہاتھ سے الگ کروں۔ میں نے اس ترجمہ کو پورے دو دن میں پڑھ ڈالا۔ جب مطالعہ کے اختتام کو پہنچنے لگا تو میں نے محسوس کیا کہ میرے جسم کے اندر نئی روح داخل ہو رہی ہے۔
“ما نیفردکو سبیل“ کہتے ہیں۔ جب میں ترجمہ سے فارغ ہوا تو میر ادل فیصلہ کر چکا تھا کہ اسلام ہی برحق ہے۔ چنانچہ میں نے زیادہ وقت ضائع نہیں کیا اور فوراً جمہور یہ تیونس کے مفتی “شیخ محمد طاہر بن عاشور” کی خدمت میں آیا اور ان کے سامنے میں نے اسلام کا اقرار و اعلان کر دیا اور میں نے اپنا نیا اسلامی نام “احمد عبد الله کو سبیل “منتخب کر لیا۔ اس وقت یہ عہد کیا کہ اب بقیہ زندگی میں علوم شرعیہ حاصل کروں گا تاکہ دین کی سمجھ حاصل ہو اور آگے چل کر اسلام کا داعی بنوں۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نے تیونس میں اپنے قائم کردہ ادارہ کو فروخت کر دیا تا کہ علوم دین کی تحصیل میں کوئی رکاوٹ در پیش نہ ہو۔
؛؛؛۔ “مانیفرد کو سبیل” کہتے ہیں ۔ اس کے بعد میں نے 1967ء سے 1968ء تک جامعہ اسلامیہ دار بیضاء میں علم حاصل کیا۔ مگر وہ چیزیں نہ مل سکیں جن کی مجھے تلاش تھی۔ اس لئے میں نے جامعہ ازہر کا ارادہ کیا۔ یہ سوچ کر کہ وہاں صرف علوم شرعیہ دینیہ ہی پڑھائے جاتے ہیں۔ مگر میں نے دیکھا کہ وہاں علوم عصریہ بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ اب میں نے مسلم ملک پاکستان کا ارادہ کیا اور وہاں شہر” ایٹہ آباد” میں معہد العلمیہ میں داخلہ لے لیا۔
وہاں مجھے قیام کے دوران اسلام سیکھنے کا موقع ملا اور مسلمان دوستوں نے بے پناہ خلوص و محبت عطا کئے۔ ابھی میں ایٹہ آباد میں قیام پذیر ہی تھا کہ ایک جرمنی مسلم مبلغ ڈاکٹر “علاء الدین شبلی “سے ملاقات ہو گئی۔ انھوں نے مجھے مشورہ دیا کہ اسلام کی دعوت وارشاد کے لئے پاکستان کے ایٹہ آباد ہی میں ایک ادارہ قائم کروں جو تدریب المعلمین او فلسطینی پناہ گزینوں کے مفاد میں کام کرے۔ ابھی اس وقت الحمد للہ میں نہ صرف مسلمان ہوں بلکہ داعئ اسلام بھی ہوں۔ اور یہ سب اللہ کے فضل سے ہے۔
(الفيصل، ریاض، عد د/231، ص /65)
(روشنی کی طرف ص/142)