جواب:

قرآن کریم میں وراثت کے تقسیم کے متعلق جو احکام بیان کیے گئے ہیں اس میں سے عام قاعدے کے مطابق عورتیں مرد کی بنسبت وراثت میں آدھا حصہ لیتی ہیں ۔
مثلاً درج ذیل صورتوں میں۔
١) اگر مرنے والے کے صرف ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہوں تو بیٹی کو بیٹے کے مقابلے میں آدھا ملے گا۔
٢) اگر مرنے والے کے ماں باپ یا اولاد نہ ہوں تو حقیقی بہن ،بھائی اس کے وارث بنیں گے اور بھائی کو جتنا ملے گا بہن کو اس کا آدھا ملے گا وغیرہ
اب رہی بات مرد کا حصہ دو گنا کیوں؟ اسلام میں خاندان کے کفالت کی ذمہ داری مرد پر ہے شادی سے پہلے ایک عورت کی ذمہ داری باپ یا بھائی پر ہوتی ہے جبکہ شادی کے بعد یہ ذمہ داری شوہر یا بیٹے پر آجاتی ہے
اسلام میں خاندان کے مالی ضرورت کے ذمہ دار مرد ہیں اور اسی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے اسے وراثت میں دو گنا حصہ ملتا ہے۔ مثال کے طور پر کوئ شخص ڈیڑھ لاکھ روپے چھوڑ کر مر گیا اگر اس کے وارثین میں صرف ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے تو بیٹے کو ایک لاکھ اور بیٹی کو 50 ہزار ملیں گے اور بیٹے کو جو پیسہ وراثت میں ملیں گے وہ اس میں خاندان کی کفالت کی ذمہ داری بھی لے گا اور جو دوسری طرف بیٹی کو ملیں گے وہ اس رقم کے ذریعہ کسی کی کفالت کی ذمہ دار نہیں ہوگی وہ تمام رقم خود رکھ سکتی ہے۔ بھلا بتاؤ جو ایک لاکھ روپیہ ملے اور اس پیسے کو دوسرے پر خرچ کرنا بھی پڑے یہ ایک لاکھ روپیہ زیادہ بہتر ہے یا وہ 50 ہزار روپیہ جس پیسے کو کسی پر خرچ کرنا نہ پڑے؟