جواب :
دراصل ملحدین اس بارے میں صحیح علم ہی نہیں رکھتے کہ اسلام میں تین طلاق کے بعد عورت اگر اپنے شوہر سے پھر سے نکاح کرنا چاہے تو حلالہ شرعی کیا ہے اور لعنتی حلالہ کیا ہے اور پھر اس عمل میں عورت کی رضا مندی کو بھی دخل ہے سب سے پہلے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اسلام میں طلاق کا طریقہ یہ ہے کہ حالت طہر میں مرد ایک طلاق دے پھر اس کے بعد چاہے تو عدت میں رجوع کر لے یا پھر عدت ختم ہو جائے تو دوبارہ نکاح کر کے اس کے ساتھ رہے اس طرح ہر مرد کو دو طلاق تک اختیار ہے (سورہ بقرہ 28)
لیکن اگر کسی شخص نے تین طلاق دے دی تو اب عورت اپنے خاوند کے لیے حرام ہو جائے گی جب تک کہ اس کا دوسرے مرد سے نکاح ہو پھر وہ ہمبستری کے بعد بغیر کسی قول و قرار کے اپنی مرضی سے طلاق دے یا پھر شوہر کا انتقال ہو جائے تو اس طرح پہلے شوہر کے لیے عورت حلال ہوگی اس کو حلالہ شرعی کہتے ہیں اس کے علاوہ جو حلالہ بناوٹی ہے جس کی طرف ملحدین کا اشارہ ہے جس کی شکل یہ ہے کہ تین طلاق کے بعد پہلے شوہر سے نکاح جائز کرنے کے لیے کسی ایسے مرد سے نکاح کرانا جس کے ساتھ یہ قول و قرار کیا گیا ہو کہ نکاح کے بعد ہم بستری کر کے ایک یا دو دن میں طلاق دے دینا ہے یہ بناوٹی حلالہ جس کی ترغیب یا حکم اسلام نے نہیں دیا ہے بلکہ اس کو مذموم اور لعنتی قرار دیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلالہ کرنے والا اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر اللہ کی لعنت ہو (مسند احمد 323/2) (ابو داؤد 86/ 2)
اسی طرح آپﷺ نے فرمایا کہ حلالہ کرنے والا ادھار مانگے ہوئے سانڈھ کی طرح ہے(ابن ماجہ 1939) جب یہ بناوٹی حلالہ گناہ کا عمل ہے پھر خود عورت جس کو حلالہ کروانا ہے وہ تیار کیوں ہو رہی ہے؟ اس عمل میں خود اس کی رضامندی ہے تو پھراس کی عزت نفس کے خلاف کیسے ہوا؟