جواب :
مسلمان عورت کسی بھی غیر مسلم مرد سے نکاح نہیں کر سکتی کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اور نہ نکاح کر دیا کرو اپنی عورتوں کا مشرکوں سے یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئے (البقرہ 22)
یہ اسلام کا قانون ہے جب اسلامی قانون کے اعتبار سے مسلم لڑکی کا نکاح ہی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ نہیں ہو سکتا تو پھر یہ زنا شمار کیا جائے گا اور زنا سے جو اولاد ہوتی ہے وہ ناجائز ہوتی ہے اور اسلام کا مطلب ہے زندگی اللہ کے بنائے گئے قانون کے مطابق گزاری جائے یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ہر چیز کی ایک حد ہے، طریقہ ہے اپنی خواہشات کے مطابق اور حلال و حرام کے فرق کے بغیر زندگی گزارنے کا نام اسلام نہیں ہے لہذا یہ خدا کا حکم ہے اس کو قبول کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔