جواب :
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سےنکاح چھ سال میں ہوا اور رخصتی نو سال میں ہوئی ، کیونکہ سعودی عرب کی نو سال کی لڑکی ہندوستان پاکستان (عجم) کی 18 سال کے برابر ہوتی ہے اور نو سال کی عمر میں لڑکی بالغ بھی ہو جاتی ہے عرب میں اور آج کے دور میں تو اس سے پہلے بھی ہو سکتی ہے کیونکہ موبائل کا دور ہے جب نکاح کرنے اور کروانے والے کو کوئی اعتراض نہیں، تو یہ لوگوں کو اعتراض کیوں ؟کیونکہ لڑکی کے والد ابوبکر نے نکاح کروایا اور رخصتی لڑکی کی والدہ نے کی تو پھر تیسری پارٹی کو اعتراض کیوں؟ تو نابالغ کا اعتراض بیکار ہے کیونکہ ماں باپ اپنی بچی کو زیادہ جانتے ہیں تو یہ اعتراض کرنے کا کسی کو حق نہیں بنتا،اور دنیا میں اس طرح کم عمر کی لڑکی سے نکاح دیگر مذاہب کے لوگوں نے بھی کئے ہیںاور بہت سب جگہ آج بھی یہ نکاح کا رواج ہے۔