جواب :
اسلام میں مرد کو چار شادی کی اجازت چند شرائط و قیود کے ساتھ ہے اور یہ کوئی واجب عمل نہیں ہے نہ اس کی طرف ترغیب دلائی گئی ہے بلکہ ایک مرد کے لیے چار شادی کرنا مباح ہے اگر وہ شرائط و قیود کی پاسداری کرتا ہے تو ورنہ ایک ہی کافی ہے اور ایک عورت چار شادی اس لیے نہیں کر سکتی کیونکہ اس کا رحم ایک ہی ہے اگر ایسی عورت کو حمل ٹھہرتا ہے تو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہ بچہ کس شوہر کا ہے نیز اس بچے کی کفالت کی ذمہ داری کی شوہر پر ہوگی یہ طے کرنا بھی مشکل کام ہو جائے گا اسی طرح ایک عورت کا چار شادی کرنا یہ انسانی فطرت کی بھی خلاف ہے دنیا کا کوئی مرد یہ گوارا نہیں کرے گا کہ اس کی بیوی کے ساتھ دوسرا تیسرا اور چوتھا مرد ہم بستر ہو اور میڈیکل سائنس بھی ایک عورت کو بیک وقت کئی مردوں کے ساتھ ہم بستر ہونے سے روکتا ہے کیونکہ اس سے مرد وعورت مہلک مرض کا شکار ہو سکتے ہیں لہذا اسلام کا یہ قانون فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔