جواب :
جنسی تعلق یعنی سیکس یہ مرد وعورت کی فطری ضرورت ہے اسلام نے اس کے حصول کے لیے لڑکا اور لڑکی کو نکاح کا پابند کیا ہے، نکاح کے بغیر کھلے اور چھپے ہر طرح کے جنسی تعلق کو حرام قرار دیا ہے ، زوجین کاباہم عمل مباشرت ایک پسندیدہ اور مطلوب عمل ہے اس سے دونوں کو جسمانی اور نفسیاتی سکون ملتا ہے اور اللہ تعالی کا ارشاد ہےاور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو (سورہ روم آیت نمبر 21 )اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنسی عمل کو فرحت بخش قرار دیا ہے اور شہد جیسی مٹھاس سے تشبیہ دی ہے (بخاری5825) اور اسلام نے زوجین کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کا خیال رکھے ایک دوسرے کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور ایک دوسرے کی ضرورتوں کو پورا کریں، شوہر کو بیوی کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے قرآن مجید میں ہے کہ عورتوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو اور (النساء ۱۹) اور بیوی کو حکم دیا کہ وہ شوہر کا کہنا مانے خاص طور سے حکم دیا گیا ہے کہ جب شوہر اسے جنسی تعلق کا مطالبہ کرے تو اگر اس کو کوئی عذر نہ ہو تو انکار نہ کرے اس طرح کا حکم جہاں جہاں احادیث مبارکہ میں آیا ہے اس کا تعلق مرد وعورت دونوںسے ہے اور اس میں اعتدال ہونا چاہیے لیکن بغیر کسی کسی عذر کے عورت اپنے شوہر کو جنسی تعلق کے لیے انکار کر دے تو یہ شوہر کی نافرمانی ہے اور مقصد نکاح کے خلاف بھی ہے لہذا اسلام میں عورت کےنافرمانی کرنے پر وعید بیان کی گئی ہے اسی طرح شوہر کے ذمہ جو عورت کی ذمہ داریاں ہے نام و نفقہ وغیرہ اگر شوہر انکار کر دے تو عورت کہاں جائے گی پھر چوری ڈکیتی نہیں کر سکتی یہ حرام ہے اسی طرح جنسی تعلق حلال طریقے سے پورا کرنا یہ نکاح کا مقصد اور میاں بیوی کا حق ہے اگر عورت شوہر کو بغیر عذر کے انکار کر دے گی تو زینا کاری سے بچنا اور اپنی نگاہ کی حفاظت شوہر کے لیے مشکل ہو جائے گا لہذا یہ میرٹیل ریپ نہیں ہے۔