جواب:
منکرین حدیث اور ملحدین کی جانب سے یہ جھوٹ پھیلایا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے غسل کے طریقے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے باریک پردے کی آڑ میں خود غسل کر کے دکھلایا اس طرح کے الفاظ کسی بھی صحیح حدیث میں موجود نہیں ہے اصل مسئلہ صحیح بخاری صفحہ 252میں موجود ہے دو شخصوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل کیسے کرتے تھے؟تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حجاب میں یعنی پردے کی آڑ میں ایک صاع پانی سے غسل کر کے بتایا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے سوال کرنے والے افراد اجنبی نہ تھے بلکہ اس میں سے ایک سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا رضائی بھانجا تھا کیونکہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن کو ام کلثوم بنت ابی بکر نے دودھ پلایا تھا(التمہید لابن عبد البر ج7/ص61/)
جبکہ دوسرے شخص کا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے تعلق حدیث کے متن میں موجود ہے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے رضاعی بھائی تھے لہذا دونوں کو اجنبی قرار دینا بھی غلط ہے دوسری بات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے یہ غسل پردے کے پیچھے کیا تھا اور یہ بتلانا مقصود تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل کر لیا کرتے تھے اور یہ عملی طور پر ممکن ہے ۔