جواب:
آج کل بعض بے وقوف لوگ پردہ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں وہ حجاب کو قید و بند شمار کرتے ہیں ہم قسم کھا کر کہتے ہیں پردہ نہ کرنے کی وجہ سے جو خرابیاں اور فساد برپا ہوں گی وہ الامان الحفیظ پھر خود یہ لوگ پردہ کہ حکم کی تجویز پیش کرنے لگیں گے۔
رہی بات حجاب کی وجہ سے کیا ایک عورت قید و بند میں زندگی گزارتی ہے؟
سب سے پہلی بات حبس کس کو کہتے ہیں؟ اس کو سمجھیے حبس اگر خلاف طبیعت(Against nature) ہو اس کو قید کہتے ہیں اور جو حبس خلاف طبیعت نہ ہو اس کو قید نہیں کہتے۔
ورنہ جو پاخانہ میں قضائے حاجت کے لیے جاتا ہے وہ بھی وہ اپنے آپ کو لوگوں سے چھپا کر بیٹھتا ہے لہذا اس کے متعلق بھی کہنا چاہیے تھا کہ وہ تھوڑی دیر کے لیے قید ہوا ہے کیونکہ وہ تمام آدمیوں کی نگاہوں سے چھپ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کو پاخانہ میں بند کر دیا جائے اور ایک دربان کھڑا کر دیا جائے اور دروازے میں زنجیر لگا دی جائے کہ وہ نکل نہ پائے اب دونوں صورت میں تو حبس ہوا ہے لیکن پہلی صورت کو قید نہیں کہیں گے کیونکہ وہ طبیعت کے خلاف نہیں دوسری صورت کو قید کہیں گے اس لیے کہ طبیعت خلاف ہے بس ثابت وہ مطلق حبس کو قید نہیں کہیں گے بلکہ جو حبس خلاف طبیعت ہو اس کو قید کہتے کہیں گے۔
اب سمجھیے مسلمان عورت جو پردہ کرتی ہیں وہ خلاف طبیعت نہیں۔ کیونکہ مسلمان عورت کے لیے حیا امر طبیعی ہے۔ لہذا پردہ حبس موافق طبیعت ہوا اور اس کو قید کہنا غلط ہوگا ان کی حیاء کا تقاضہ یہی ہے کہ وہ پردہ میں پوشیدہ رہیں اور وجہ یہی ہوتا ہے کہ نامحرم کی نگاہ ان پر نہ پڑے تاکہ کہیں نہ محرم فریفتہ نہ ہو جائیں یا پھر بسا اوقات برا خیال پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں زنا کاری عام ہوتی ہے۔
یہ حکم لایا گیا تاکہ معاشرہ میں خرابی پیدا ہونے کا راستہ بند ہو جائے۔
اگر معترض صاحب سناتنی ہیں تو سنیے ستیارتھ صفحہ 24 سملاس 3 نمبر 4 میں موجود ہے کہ لڑکیوں کے پاٹھسالا (اسکول)میں سب عورتیں اور مردانہ اسکول میں مرد ہوں ۔
عورتوں کے اسکول میں پانچ سالہ لڑکا اور مردانہ اسکول میں پانچ سال کی لڑکی نہ جانے پائے۔
اسی طرح سے ستیارتھ پرکاش صفحہ 419 میں ہے:
عورتوں کا مردوں کے ساتھ مندروں میں میل جول ہونے سے زناکاری، لڑائی اور بیماریاں وغیرہ پیدا ہوتی ہیں۔
لہذا شاید آپ کو معلوم ہو گیا ہوگا یہ تمام چیزیں کیوں مقرر کی گئی ہیں تاکہ تمام فساد ختم ہو جائے۔